بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 15/08/2026 |
دارالافتاء
تازه لکڑیاں وزن کرکےسوکھنے کے بعد وزن کیے بغیر بیچنا
سوال
آج کل لکڑیاں کاٹ کر وزن کیے جاتے ہیں پھر رکھے جاتے ہیں اور فروخت کرتے وقت اس کا وہ وزن بتایا جاتا ہے جو ابتداء میں تھا حالانکہ خشک ہونے کی وجہ سے اس کا وزن حقیقت میں کم ہوتا ہے لیکن متعاقدین اس پر رضامند ہوتے ہیں شرعا یہ معاملہ کیسا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص مکیلی ( خاص پیمانہ کے ساتھ ناپ کربیچی جانے والی چیز ) یاموزونی ( وزن کے حساب سے بیچی جانے والی چیز) کیل یاوزن کی شرط سے خریدتا یا فروخت کرتا ہو ، یعنی مقدارمقصودی ہو اور اسی کے حساب سے قیمت طے ہوئی ہو ، توضروری ہے کہ خریدار اپنے سامنے وہ چیز بائع سےصحیح صحیح کیل یا وزن کر وائے تا کہ کمی کی صورت میں اس کاحق بائع کے پاس یازیادتی کی صورت میں بائع کا حق اس کے پاس نہ آجائے ۔ چنانچہ اگر خریدار اپنے سامنے کیل یاوزن نہیں کر وائے گا، تو بیع فاسد ہو گی اور بیع فاسد میں اگر چہ مبیع پر قبضہ کرنے کے بعد مشتری کو ملکیت حاصل ہو جاتی ہے لیکن وہ گناہ گار رہے گا۔ البتہ اگر کسی چیز کو خریدتے وقت وزن یا کیل کو صرف ایک وصف کے طور پر رغبت دلانے کے لیے ذکر کیا جائے جب کہ مقصود صرف وہ خاص بنڈل یاپیکٹ وغیر ہ ہو ، تو پھر اس کو وزن یا کیل کیے بغیر خرید نا اور استعمال کر نا جائز ہے ۔
صورت مسؤلہ میں اگر گیلی لکڑیوں کو وزن کر کے رکھا جاتا ہے اور اسے سوکھنے کے بعد دوبارہ وزن کیے بغیر اسی سابقہ وزن کے حساب سے فروخت کیا جاتاہے ، تو ایسی صورت میں مشتری کا حق بائع کے پاس رہ جانایقینی ہے جس کی وجہ سے یہ بیع ناجائز ہوگی۔ البتہ ایسی صورت میں اگر مشتری وزن کیے بغیر لکڑیاں اٹھا کر لے جائے ، تو اس کو ملکیت حاصل ہو جائے گی اور وہ اسے استعمال کر سکتا ہے ، تاہم بائع نے جس مقدار میں وزن کم دیا ہے اس حساب سے قیمت میں وصول کی گئی اضافی رقم اس کے لیے حلال نہیں، لہذا وزن کی کمی پوری کر دے یا اضافی رقم لوٹادے۔ تاہم اگر لکڑیوں کو وزن کی شرط کے ساتھ نہ خریدا جائے یعنی وزن کے حساب سے قیمت طے نہ کی جائے بلکہ لکڑیوں کی گھٹری یا ڈھیر کی طرف اشارہ کر کے اس کی قیمت بتائی جائے کہ یہ اتنے کا ہے اور خشک ہونے سے پہلے اس کا وزن اتنا تھا تو اس صورت میں بیع جائز ہوگی۔
(قوله ومن اشترى مكيلا مكايلة أو موزونا موازنة) أي اشتراه على كذا كيلا أو رطلا (فاكتاله أو اتزنه) لنفسه (ثم باعه مكايلة أو موازنة) في الموزون (لم يجز للمشتري منه أن يبيعه حتى يعيد الكيل والوزن «؛ لأن النبي - صلى الله عليه وسلم - نهى عن بيع الطعام حتى يجري فيه صاعان: صاع البائع، وصاع المشتري» ) ۔۔۔ عن يحيى بن أبي كثير «أن عثمان بن عفان وحكيم بن حزام كانا يبتاعان التمر ويجعلانه في غرائر ثم يبيعانه بذلك الكيل، فنهاهما رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أن يبيعاه حتى يكيلا لمن ابتاعه منهما» فهذا الحديث حجة لكثرة تعدد طرقه وقبول الأئمة إياه، فإنه قد قال بقولنا هذا مالك والشافعي وأحمد - رضي الله عنهم -.وحين علله الفقهاء بجعله من تمام القبض إذ بالكيل يتميز حقه عن حق البائع إذ عسى أن يكون أنقص أو أزيد فيضيع ماله عند البائع أو مال البائع عنده فألحقوا بمنع البيع منع الأكل قبل الكيل والوزن۔۔۔ وألحقوا بالمكيل الموزون۔
(قوله ولا معتبر بكيل البائع قبل البيع) من المشتري الثاني (وإن كان) كاله لنفسه (بحضرة المشتري) عن شرائه هو (لأنه ليس صاع البائع والمشتري وهو الشرط) بالنص (ولا بكيله بعد البيع) الثاني (بغيبة المشتري) وغيبة وكيله في القبض؛ لأن التسليم إلى الغائب لا يتحقق وهذا الكيل المأمور به لتسليم المقدار الواجب (وإن كاله) أو وزنه (بعد العقد بحضرة المشتري) مرة فيه اختلاف المشايخ، قال عامتهم: كفاه ذلك حتى يحل للمشتري التصرف فيه قبل كيله ووزنه ۔
وإذا عرف أن سبب النهي أمر يرجع إلى المبيع كان البيع فاسدا، ونص على الفساد في الجامع الصغير.ونص على أنه لو أكله وقد قبضه بلا كيل لا يقال إنه أكل حراما؛ لأنه أكل ملك نفسه، إلا أنه آثم لتركه ما أمر به من الكيل، فكان هذا الكلام أصلا في سائر المبيعات بيعا فاسدا إذا قبضها فملكها ثم أكلها، ۔(فتح القدير،كتاب البيوع،ج:6،ص:139،140)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں