بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

مستقبل میں بننے والی بیوی کی طلاق کو معلق کرنا


سوال

ایک شخص نے غصہ میں آکر دوست سے کہا کہ: ما کہ تا سرہ خبری او کی نو پہ مادے را روانہ خزہ طلاقہ وی(اگر میں نے تم سے باتیں کیں  تو میری ہونے والی بیوی کو طلاق ہو)۔ مذکورہ الفاظ کا شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

             طلاق کی تعلیق کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ طلاق کو معلق کرنے والا شخص شادی شدہ ہو اور اپنی بیوی کی طلاق کو معلق کرے یا اگر شادی شدہ نہیں ہے تو نکاح کی طرف نسبت کر کے طلاق کو معلق کرے۔

          صورت مسئولہ میں مذکور شخص کا دوست سے یہ کہنا کہ : ما کہ تا سرہ خبری او کی نو پہ مادے را روانہ خزہ طلاقہ وی(اگر میں نے تم سے باتیں کیں  تو میری ہونے والی بیوی کو طلاق ہو) مستقبل میں بننے والی بیوی کی طرف طلاق کی نسبت ہے جو کہ درست ہے  اس لیے مذکورہ شخص کا اپنے دوست سے باتیں کرنے کے بعد نکاح ہوتے ہی اس کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو گی تاہم اسی عورت سے  تجدیدِ نکاح کرنے سےدوبارہ طلاق واقع نہ ہوگی البتہ آئندہ  کے لیے یہ شخص دوطلاقوں کا مالک ہوگا اور اگر اس کےبعد اس کے علاوہ کسی عورت سے نکاح کیا تو طلاق واقع نہ  ہوگی اورپوری  تین  طلاقوں کا مالک ہوگا۔

 

 وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:488)

(وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل. (الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها، ج:3، ص:286)


فتویٰ نمبر : 6498/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں