بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ڈرائیور کے لیے قصر کا حکم


سوال

 میں ایک بس ڈرائیور ہوں،پشاور سے کراچی آنا جانا رہتا ہے۔کسی جگہ ایک دو دن سے زیادہ قیام نہیں رہتا ،میرے لیے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟پوری پڑھنی ہے یا قصر کرنی ہے ؟

جواب

                کوئی شخص  اس وقت مسافر شمار ہوتا ہے،جب وہ ستتر کلومیٹر یا اس سے زیادہ مسافت کا قصد کرکے اپنے شہر یا گاوں کی آبادی سے نکل جائے ۔

             صورت مسؤلہ میں بس ڈرائیور اگر پشاور کا رہائشی ہے تو پشاور سے کراچی جانے کی نیت سے اس کا پشاور کے حدود سے نکلتے ہی سفر شروع ہوجائے گا لہذا جب تک واپس پشاور کے حدود میں داخل نہ ہوا ہو تب تک نماز قصر ہی پڑھے گا،یعنی چار رکعت والی نمازوں کو دو رکعت پڑھے گا۔

 

ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر.(الهداية:كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر،ج:1،ص:174)

من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدامسيرة ثلاثة أيام ولياليها بالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة،صلى الفرض الرباعي ركعتين.(تنوير الأبصار على صدر رد المحتار:كتاب الصلوة،باب الصلاة المسافر،ج:2،ص:603..599)


فتویٰ نمبر : 9274/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں