بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

حالت جنابت میں دیر تک رہنا


سوال

 اگر کوئی بندہ جانے یا انجانے میں عذر یا بلاعذر حالت غسل میں مہینہ ،دو مہینے یا تین مہینے یا زیادہ بھی ہوں،گزارے تو گناہ  ہوگا یا نہیں؟ نیز اس میں  اس کی بیوی اور بچوں کی طرف کوئی خاص حکم ہے؟اگر وہ اسی حالت میں  بیوی سے ہمبستری کرتا ہے تو کیا جائز ہے ؟ اگر اسی حالت میں بچے کی پیدائش شروع ہو جاتی ہے تو کوئی حرج ہے ؟ حالت غسل میں رہنے سے نکاح ٹوٹتا ہے یا نہیں؟ 

جواب

            غسل فرض ہوجانے کے بعد جس قدر جلدی غسل کرلےبہتر ہے،تاہم اگر کسی وجہ سے فوری طور پر فرض غسل نہ کرےاور اس میں تاخیر ہوجائے،لیکن غسل میں تاخیر کی صورت میں  کوئی نماز قضا  نہ ہوتو اس کی گنجائش ہے ،لیکن  اگر کوئی شخص اتنی دیر تک غسل  کو مؤخر کرے کہ اس میں نماز قضا ہوجائے تو اس پرگناہ گار ہوگا۔

            لہذا صورت مسؤلہ میں  مہینہ دو مہینے یا تین مہینہ تک فرض غسل کو مؤخر کرنا  سخت گناہ ہے، نیز اگر بیوی بچوں کواس بات کا علم ہو تو ان کے ذمے حکمت کے ساتھ اس کو غسل کرنے کی ترغیب دینا ہے،اوراس حالت میں بیوی سے ہمبستری جائز ہےنیزاس حالت میں اگر ہمبستری سے علوق ہو جائےتو بچے پر کو ئی اثر نہیں پڑتا اور نکاح پر بھی کو ئی اثر نہیں پڑتا۔

 

الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لا يأثم. كذا في المحيط.قد نقل الشيخ سراج الدين الهندي الإجماع على أنه لا يجب الوضوء على المحدث والغسل على الجنب والحائض والنفساء قبل وجوب الصلاة أو إرادة ما لا يحل إلا به.(الفتاوى الهندي،ج:1،ص:16)


فتویٰ نمبر : 9285/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں