بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کی طلاق کوباپ کے گھر جانے کے ساتھ معلق کرنا


سوال

اگر بیوی کی غیر موجودگی میں گھر والوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے شوہر غصے میں یہ بولے کہ "میری بیوی اس  کے بعد کبھی اپنے باپ کے گھر نہیں جا سکتی چاہے باپ مر بھی جائے پھر بھی نہیں جا سکتی اگر گئی تو میری طرف سے فارغ ہے"۔ اب اگر بیوی کبھی بھی باپ کے گھر جاتی ہے تو اس بارے میں کیا حکم ہو گا؟

جواب

               اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق  کرے تو جب بھی وہ شرط پائی جائے گی ،تو طلاق واقع ہوجائے گی اگر تین  طلاق تھیں تو عورت مطلقہ مغلظہ رہے گی اور اگر ایک طلاق تھی تو صرف ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔

              لہذا صورت  مسؤلہ میں اگر شوہر نے سے یہ  کہا ہو کہ "میری بیوی کبھی اپنے باپ کے گھر نہیں جا سکتی چاہے باپ مربھی جائے  پھر بھی نہیں جا سکتی ،اگر گئی تو میری طرف سے فارغ ہے"اس کے بعد اگر وہ اپنے باپ کے گھر جائے گی تو   ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔

 

الكنايات لاتطلق بهاقضاإلابالنيةأودلالةالحال۔(الدرالمختارعلى صدرردالمحتار،كتاب الطلاق،باب الكنايات،ج:4،ص:528)

اذااضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:420)

 


فتویٰ نمبر : 6502/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں