بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

پیشگی رقم وصول کرنے کا شرعی حکم


سوال

جب مالک مکان  کسی کو اپنا مکان یا دکان وغیرہ کرایہ پر دیتے ہیں تو ابتدا میں کرایہ دار سے کچھ رقم بنام سیکورٹی (حفاظت)کے لیے لیتے ہیں کیونکہ بسااوقات کرایہ دار مکان  میں نقصان  کرتے ہیں یا بجلی،گیس وغیرہ کے بل ادا نہیں کرتے تو چونکہ آجکل فتن زیادہ ہیں اس لیے مالک مکان کا کرایہ دار سے یہ رقم لینا اور پھر اس سے نفع لینا کیسا ہے،نیز یہ رقم کرایہ دار کے مکان خالی کرتے وقت بصورت عدم نقصان مالک مکان واپس کرتا ہے؟

جواب

              مالک مکان کا کرایہ دار سے سیکورٹی  کے طور پر ایڈوانس رقم وصول کرنا اگر بطور رہن ہو تو اجارہ میں رہن کے طور پر اس طرح کا ایڈوانس رقم لینا شرعا جائز ہے،لیکن اس صورت میں مؤجر کے لیے ایڈوانس رقم استعمال کرنا جائز نہیں ،لیکن اگر کرایہ دار کی طرف سے استعمال کی اجازت ہو تو ایسی صورت میں یہ ایڈوانس لی ہوئی رقم قرض کے حکم میں ہوکرمالک مکان یا دکان کے لیے اس رقم سے نفع اٹھانے کی گنجائش ہے ۔

 

وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.(ردالمحتار،ج:5،ص:166)

(هو) لغة: حبس الشئ.وشرعا: (حبس شئ مالي) أي جعله محبوسا لان الحابس هو المرتهن (بحق يمكن استيفاؤه) أي أخذه منه۔(ردالمحتار،كتاب الرهن،ج:10،ص:683)


فتویٰ نمبر : 3132/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں