بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

انسانی اعضا بیچنے کا شرعی حکم


سوال

آج کل ایک ٹریند چل رہا ہے اور اکثر لوگ کہتے ہیں کہ  ایک گردہ بیچ کر آئی   فون لوں گا۔ تو کیا شریعت میں گردہ بیچناجائز ہے؟

جواب

             شریعت مقدسہ کی پاکیزہ تعلیمات کی رو سے انسان کے تمام اعضا مکرم اور محترم ہیں ، اس لیے اس کا کوئی عضو مال کے مقابلہ میں  بیچنا جائز نہیں ، کیونکہ یہ اس عضو کوذلیل اور حقیر بنانے کے مترادف ہے ۔

            صورت مسؤلہ میں اپنا گردہ فروخت کرنا  انسانی شرافت کے خلاف اور ناجائز ہے۔

 

الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح. (الفتاوى الهنديه،كتاب الكراهية، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات، ج:5، ص:354)

لا يجوز بيع شعر الإنسان والانتفاع به؛ لأن الآدمي مكرم فلا يجوز أن يكون جزؤه مهانا. ( تبيين الحقائق، باب البيع الفاسد، ج:4، ص:51)


فتویٰ نمبر : 3121/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں