بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ٹی وی کی خرید وفروخت


سوال

 میری الیکٹرونکس کی شاپ ہے،موجودہ دور کے اعتبار سے میڈیا کے مختلف آلات کا کاروبار کرتا ہوں،مثلا ٹی وی وغیرہ،کیا ان آلات کا کاروبار شرعا جائز ہے ؟

جواب

              جوچیز  اصل کے اعتبار سے گناہ کے کام میں استعمال ہونے کے لیےنہ  بنی ہو،لیکن لوگ اسے گناہ میں بھی استعمال کرتے ہوں تو ان کی خرید وفروخت شریعت کی رو سے جائز اور مباح ہے۔ٹی وی ایک ایسا آلہ ہے جسے جائز کاموں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور ناجائز میں بھی۔اس کے ذریعے معلوماتی ،تعلیمی،مذہبی اور اصلاحی پروگرام نشر ہوں تو یہ تبلیغ اور تعلیم کا ایک جائز اور موثر ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔کفریہ طاقتوں کے خلاف زرائع ابلاغ کی جنگ  لڑنے کے لیے اس کی ضرورت سے انکار مشکل ہے۔اس حیثیت سے دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض آلہ معصیت نہیں،بلکہ اس کا جائز استعمال بھی ممکن ہے،لہذا اس کی خرید وفروخت کا کاروبارکرنا شرعا جائز ہے۔

 

وعرف بهذا أنه لا يكره بيع مالم تقم المعصية به كبيع جارية المغنية.(رد المحتار على الدر المختار:كتاب الجهاد،باب البغاة،مطلب في كراهية ما تقوم المعصية بعينه،ج:6،ص:421)


فتویٰ نمبر : 3126/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں