بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/08/2026

دارالافتاء

 

ملازمین کی اجازت کے بغیر تنخواہ سے کٹوتی کرکے سیلاب زدگان فنڈ میں جمع کرنا


سوال

میں ایک سركاری ادارے میں ملازم ہوں،مہینہ گزرنے پر مجھے مقررہ تنخواہ دی جاتی ہے،حالیہ دنوں میں  ہمارا ملک سیلا ب کے تباہی سے دوچار ہے اس وجہ  ہمارے ادارے کے سربراہ نے  یہ فیصلہ کیا ہے کہ  ادارے کے  سارے  ملازمین  کی تنخواہ سے  مخصوص مقدار   کی رقم کاٹ کر   حکومت کے سیلاب زدگان فنڈ میں  جمع کیا جائے حالانکہ  اس پر  ہم راضی نہیں تو کیا  ادارے کے سربراہ کے لیے  ہماری اجازت کے بغیر  ہماری تنخواہ سے کٹوتی کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

             واضح رہے کہ کسی  شخص  کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں  تصرف کرنا جائز نہیں  ہے اس لیے صورت مسئولہ میں اگر ملازمین کی  اس بات پر رضامندی نہ ہو کہ  ان کی تنخواہ سے کٹوتی  کرکےسیلاب زدگان فنڈ میں جمع  کیا جائے تو  ادارے کے سربراہ کے لیے  ملازمین کی اجازت کے بغیر  ان کی تنخواہ سے کٹوتی کرکے سیلاب زدگان فنڈ میں جمع کرنا  جائز نہیں ہے۔

 

ولا يجوز التصرف في ملك الغير بغير إذنه۔(بدائع الصنائع،فصل في بيان شرائط الجواز والنفاذ،ج:1،ص:234)

يشتترط في صحة الإجارة رضا العاقدين۔(دررالحكام شرح مجلة الأحكام،كتاب الإجارة،ج:1،ص:501،المادة:448)

إذااستوفيت المنفعة كلها لزم بدل الإيجار كله كما أنه قد يستوفي بعضها،وعلى ذالك فإذاكانت الإجارة واقعة على المدة كما في إجارةالدواب لزم المستأجر اعطاء ما يلحق المدة التي استوفى منافعها من الأجرة۔(دررالحكام شرح مجلةالأحكام،كتاب الإجارة،ج:1،ص:533)


فتویٰ نمبر : 5139/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں