بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

عاریت والی زمین کی پیداوار میں عشر


سوال

ایک شخص نےکسی سے عاریتاً زمین لی اور اس نے مالک کی اجازت  سے اپنے لیے نہری زمین سے  کاشت کاری کی۔ ایسی صورت میں اس فصل کی پیداوار میں اس شخص پرعشر کی ادائیگی واجب ہوگی یا نہیں۔ اور اگر ہوگی تو کامل عشر یا نصف عشر؟

جواب

           شرعی نقطہ نظر سے عشر کے وجوب کے لیے زمین کا مالک ہونا ضروری نہیں ، بلکہ جو شخص بھی زمین میں کاشتکاری کرکے فصل حاصل کرے تو اس پر عشر کی ادائیگی واجب ہوگی۔ نیزاگرفصل کی سیرابی بارش یا کسی ایسے ذریعہ سے ہو جس پر خرچ وغیرہ نہ آئے تو ایسی صورت میں عشر، ورنہ نصف عشر واجب ہوگا۔

           صورت مسئولہ میں جب اس شخص نے  یہ ز مین عاریتاً لی ہے اور وہ اس سے نہرکے اس پانی کے ذریعے  پیداوار حاصل کر رہا ہے تو اگر اس پر کوئی  خرچ وغیرہ نہ آتا ہو اور نہ نہر سے کھیت تک پانی پہنچانے میں کوئی مشقت ہو تو ایسی صورت میں  عشر واجب ہوگا اور اگر اس پر خرچ آتا ہو یا پانی پہنچانے میں مشقت اٹھانی پڑتی ہو تو ایسی صورت میں  نصف عشر واجب ہوگا۔

 

أن ملك الأرض ليس بشرط لوجوب العشروإنماالشرط ملك الخارج؛ لأنه يجب في الخارج لا في الأرض۔۔۔(و)يحب(نصفه في مسقي غرب)أي دلو كبير(ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة۔۔۔علة لوجوب نصف العشر.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الزکوۃ،باب العشر،ج:3،ص:266،268)


فتویٰ نمبر : 9269/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں