بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

نقد خریداری پر کم قیمت اور قسطوں پر خریداری میں زیادہ قیمت مقرر کرنا


سوال

اگر کسی موٹر سائیکل کی قیمت 83 ہزار ہے، اور قسطوں پر اسے ایک لاکھ پر بیچا جاتا ہے، اور قسطوں کی میعاد ایک سال تک ہوتو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

          شريعت مطہرہ کی رو سے جس طرح نقد خرید و فروخت درست ہے اسی طرح ادھار اور قسطوار خریدوفروخت  بھی جائز ہے، نیز نقد کے مقابلے میں ادھار یا قسطوار کی قیمت زیادہ رکھنا بھی جائز ہے۔ البتہ ادھار یا قسطوار کی صورت میں ادائیگی کی مدت اور قیمت کی تعیین ضروری ہے۔

             صورت مسؤلہ  کے مطابق موٹر سائیکل کو نقد کم قیمت مثلاً 83،000 روپے، جبکہ قسطوار ایک لاکھ روپے پر بیچنا جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہوگی۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ پہلے سے  اقساط کی ادائیگی کی تاریخیں  طے کرلی جائیں اور ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ عائد نہ کیا جائے، ورنہ وہ سود  کے حکم میں داخل ہوگا۔

 

قال: "‌ويجوز ‌البيع ‌بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما" لإطلاق قوله تعالى: {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا}[البقرة:275] ۔(الهداية، ‌‌كتاب البيوع، ج:3، ص:24)

البيع ‌مع ‌تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح۔۔۔يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط۔(شرح مجلة الأحکام العدلیة لسلیم رستم باز اللبناني، رقم المادة:246/245، ص:125)

۔۔۔لأن للأجل شبها بالمبيع؛ ‌ألا ‌يرى ‌أنه ‌يزاد ‌في ‌الثمن لأجل الأجل۔(الهدایة، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:5،ص:141)


فتویٰ نمبر : 3108/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں