بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

عذر کی وجہ سے سنتِ مؤکدہ نماز چھوڑنا


سوال

ایک شخص کا ہاتھ ٹوٹ گیاہے وہ بیٹھ کرنماز تو پڑھ سکتاہے لیکن تکلیف ہوتی ہے، کیا وہ  سنت مؤکدہ نماز چھوڑ سکتاہے یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ احادیث مبارکہ میں سنتِ مؤکدہ ادا کرنے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، اور بلاعذر ترک پر وعید ہے۔

           لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق مذکورہ مریض اگرسنتیں پڑھنے سے زیادہ تکلیف میں مبتلا ہوتا ہو یا پڑھنا مشکل ہو تو ترک کرنے کی گنجائش ہے، لیکن جب ادا کرسکتا ہوادا کرتا رہے تاکہ ترکِ سنت کی عادت نہ بن جائے۔

 

عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌من ‌ثابر ‌على ثنتي عشرة ركعة من السنة بنى الله له بيتا في الجنة: أربع ركعات قبل الظهر، وركعتين بعدها، وركعتين بعد المغرب، وركعتين بعد العشاء، وركعتين قبل الفجر "۔(سنن الترمذي، ‌‌باب ما جاء فيمن صلى في يوم وليلة ثنتي عشرة ركعة من السنة، ما له فيه من الفضل، ج:2، ص:273)

‌رجل ‌ترك ‌سنن الصلاة إن لم ير السنن حقا فقد كفر؛ لأنه تركها استخفافا وإن رآها حقا فالصحيح أنه يأثم؛ لأنه جاء الوعيد بالترك. كذا في محيط السرخسي ۔(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب التاسع في النوافل، ج:1، ص:112)

‌وترك ‌السنة ‌المؤكدة ‌قريب ‌من ‌الحرمة يستحق حرمان الشفاعة اهـ. ومقتضاه أن ترك السنة المؤكدة مكروه تحريما لجعله قريبا من الحرام ۔۔۔ والمراد الترك على وجه الإصرار بلا عذر۔(رد المحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:338)


فتویٰ نمبر : 9265/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں