بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نومولود بچے کےبال حلق کرنا


سوال

نومولود بچے کی پیدائش کے بعد سر کے بال کاٹنے کے متعلق شرعی رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

             نومولودبچہ کےسرکے بال صاف کرنے کے لیے مستحب یہ ہےکہ پیدائش کے ساتویں دن اگر وسعت ہو تو عقیقہ کے جانور کو ذبح کرنے کے بعد نومولود کے سر کے بال صاف کردیے جائیں، اور بالوں کے وزن کے بقدر چاندی  صدقہ کردی جائے، البتہ  بالوں کو کسی جگہ دفن کردینا چاہیے ۔اور اگر کسی وجہ سے عقیقہ میں تاخیر   ہو تو ساتویں دن  بال صاف کردینا چاہیے۔

 

عن علي بن أبي طالب قال: عق رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحسن بشاة، وقال: يا فاطمة، احلقي رأسه،وتصدقي بزنة شعره فضة، قال: فوزنته فكان وزنه درهما أو بعض درهم.۔(سنن الترمذی،باب العقیقة،ج:3، ص:151)

عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: كل غلام مرتهن بعقيقته، تذبح عنه يوم السابع، ويحلق رأسه، ويسمى ۔(سنن ابن ماجه،باب العقيقه،ج:2،ص:1056)

يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا (ردالمحتار علی الدر المختار،كتاب الحظروالاباحة،ج:6،ص:336)

و (ندب) ولو لم يعق عنه حلق رأس المولود ولو انثى و (التصدق) بزنة شعره ۔ (حاشية الدسوقى على الشرح الكبير ،ج:2،ص:298)


فتویٰ نمبر : 5124/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں