بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

حرام مال سے زكوٰة ادا كرنا


سوال

حرام مال کسی کے پاس ہو اور نصاب سے زائد ہو تو کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے؟

جواب

           حرام مال کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر اس کا مالک معلوم ہوتو اسے واپس کیا جائے اور اگر مالک معلوم نہ ہو  تو بلا نیت ثواب  صدقہ کردیا جائے تا کہ حرام مال سے ذمہ فارع ہو۔ حرام مال چونکہ سارا واجب التصدق ہوتا ہے اس لیے اس میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔

 

(قوله: كما لو كان الكل خبيثا) في القنية لو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه.(ردالمحتارعلی الدر المختار،کتاب الزکوة، باب زکوةالغنم، ج:3، ص218)

 


فتویٰ نمبر : 9270/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں