بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

عورتوں کو حصہ نہ دینے کی صورت میں میراث کا حکم


سوال

اگر کسی کو میراث میں اپنے باپ سے ایسی زمین مل جائےجس کے آباءواجداد نے عورتوں کو حصہ نہ دیا ہوجیسا کہ عام دستور ہے تو اس وارث کے لیے اس سے انتفاع یا اسے فروخت کر کے مشتری کے لیے اس میں مسجد ومدرسہ وغیرہ بنانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

                 شریعتِ مطہرہ نے جس طرح مردوں کو میراث میں حصہ دیا ہے اسی طرح عورتوں کا حصہ بھی مقرر کیا ہے۔لہذا  کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی وارث  کو میراث سے محروم کردے۔ نیز میراث میں مورث کے ترکہ میں سے صرف وہ مال تقسیم کیا جائے گا جس کے ساتھ دوسروں کا حق متعلق نہ ہو، کیونکہ جس مال کے ساتھ دوسروں کا حق متعلق ہویا اس کو ناجائز طریقے سےحاصل کیا ہو تو وہ مال تقسیم نہیں کیا جائے گا، بلکہ اگر اس کامالک معلوم ہو تو اصل مالک کو لوٹانا لازم ہےاور اگر مالک معلوم نہ ہوتو اس کو مالک کی طرف سے صدقہ کرنا لازم ہے۔

                صورتِ مسئولہ میں حسبِ بیان جب سائل کےآباءواجدادنے بہنوں کو میراث میں حصہ نہیں دیا ہےتو ان کے ساتھ عورتوں کا جتنا حصہ بنتا ہو وہ ان کے لیے حلال نہیں اور ان کے ترکہ میں اس کے بقدرحصہ میں میراث جاری نہیں ہوگی،اس حصے کوان  کے حقداروں یا ان کے ورثا کو لوٹانا لازم ہے۔نیز مسجدخداکا مقدس اور پاکیزہ گھرہے ثواب کی نیت سے اس میں رقم خرچ کی جاتی ہے اور ثواب کے حصول کے لیے مال کا حلال ہوناضروری ہے۔فقہائے کرام  نے اس بات کی تصریح کی ہےکہ مسجد کی تعمیر میں حرام مال خرچ کرنا جائزنہیں اس لیے تعمیرِ مسجد میں حرام اور مشتبہ مال خرچ نہیں کرنےسے اجتناب ضروری ہے۔

 

عن ابن عمر رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺقال :"لا تقبل صلاۃ بغیر طھورولا صدقۃ من غلول "(سنن الترمذی ابواب الطھارۃ عن رسول اللہ ﷺ،ج:1،ص:53)

 يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق الغير بعينها۔(الدرالمختار على صدرردالمحتار، كتاب الفرائض،ج:10، ص:493، دار الكتب العلمية)

لو مات رجل و كسبه من ثمن الباذق و الظلم او اخذ الرشوة تعود الورثة ولا ياخذون منه شيئا وهو الاولى و يردونه على اربابه ان عرفوهم والا يتصدقو به ،لان سبیل  الكسب الخبيث التصدق اذا تعذر الرد (البحر الرائق ،كتاب الكراهية، فصل في البيع، ج:8،ص:369)

قال تاج الشریعۃ:اما لو انفق في ذالك مالا خبيثا و مالا سببه الخبيث و الطيب فيكره لان الله تعالى لا يقبل الا الطيب ، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلوة، با ب ما يفسد الصلاة و يكره فيها،ج:2 ،ص:431)


فتویٰ نمبر : 3317/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں