بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اجیر خاص کا فرائض منصبی کےعلاوہ دوسرے کام میں مشغول ہونا


سوال

بعض ائمہ مساجد یا مدرسین علماء پی ڈی اے میں کلاس فور ہوتے ہیں لیکن وہاں ڈیوٹی کے لیے نہیں جاتےبلکہ اس کی بجائے پی ڈی اے کے مساجد میں امامت کرتے ہیں اور وہاں سے تنخواہ بھی لیتے ہیں تو کیا ان کے لیے یہ تنخواہ لینا جائز ہے؟

جواب

               واضح رہے کہ سرکاری ملازمین اجیر خاص کے حکم میں ہوتےہیں جن کی قانونی اور شرعی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مقررہ مدت میں اپنے آپ کو ذمہ داری کے لیے حوالہ کریں ۔

               صورت مسئولہ میں کلاس فورملازمین اجیر خاص ہونے کی وجہ سے مقررہ اوقات میں اپنی مرضی سے فرائض منصبی کے علاوہ کوئی اور مصروفیت اختیار نہیں کرسکتے،البتہ اگر بااختیار افسران ان کو مسجد کی امامت سونپ دیں تو ایسی صورت میں ان کے لیےڈیوٹی کے اوقات میں مسجد کی امامت کرنادرست ہے اور تنخواہ کے مستحق ہوں گے۔

 

وإذا استأجررجلا یوما لیعمل کذا،فعلیہ أن یعمل ذالک العمل إلی تمام المدۃ،ولا یشتغل بشیء آخر سوی المکتوبۃ۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الإجارۃالباب الثالث،ج:4،ص:416

(الخاص)۔۔۔(وھو من یعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصیص،ویستحق الأجر بتسلیم نفسہ فی المدۃ،وإن لم یعمل۔( الدر المختار علی صدر رد المحتار،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج:9،ص:95)


فتویٰ نمبر : 3127/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں