بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

میسج کے ذریعہ دو طلاق دینا


سوال

میں نے اپنی بیوی کو دو  دفعہ موبائل پر میسج سے طلاق دی ہے۔ پہلا میسج :میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ دوسرا میسج: میں تمہیں دوسری طلاق دیتا ہوں۔ یہ اب ہم رجوع کرنا چاہتے ہیں ہماری  رہنمائی فرمائیں۔

جواب

             واضح رہے کہ جس طرح زبان سے طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اسی طرح کسی چیز پر  لکھ دینے یا میسج میں لکھ کر بھیجنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق شوہر کے میسج  سے بیوی پر  دو طلاق رجعی واقع ہوئی ہیں۔

طلاقِ رجعی کے بعد  شوہر کے لیے اپنی بیوی کی عدت  میں رجوع  کرنے کا حق ہوتا ہے، اگر عدت میں   رجوع کرلیا  تو اس سے رجوع درست ہوجائے گا  اور نکاح برقرار  رہے گا، اور اگر شوہر نے عدت میں رجوع نہیں کیا تو عدت گزرنے کی بعد    باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہو سکتاہے۔

دونوں صورتوں میں  شوہر نے اگر اس  سے پہلے کوئی اور طلاق نہ دی ہو تو آئندہ صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہوگا۔

 

قوله :كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو۔(رد المحتار کتاب الطلاق، ج:3،ص:246)

(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس.(رد المحتار کتاب الطلاق،ج:3،ص:397)


فتویٰ نمبر : 6491/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں