بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

سیلاب کی لکڑیوں کا استعمال


سوال

آج کل سیلاب   میں  لکڑی بہتی ہے  جسے لوگ  پکڑ کر خود استعمال کرتے ہیں  توکیا لوگوں کے لیے  سیلاب کی لکڑیوں   كاپکڑنا اور پھر استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

           پانی  میں جو مملوکہ سامان بہہ  کر آتا ہے شرعاً یہ لقطہ کے حکم میں ہوتا ہے ، اگر لقطہ قیمتی  چیزہو تو اس کی تشہیر کرنا ضروری  ہے، تشہیر کے بعد مالک نہ ملنے کی صورت میں اگراٹھانے والا فقیر ہو تو اسے خود استعمال  کرسکتا ہے،البتہ اگر وہ  مالدار ہو تو اسےمالک کی طرف سے  غریبوں  میں صدقہ کرےگا۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق اگر سیلاب کی لکڑیاں قیمتی  ہوں تو اٹھانے والے پراس کی تشہیر لازم ہوگی،اورلکڑیاں محفوظ  رکھے تاکہ مالک کے آجانے کے بعداسے حوالہ کرے،البتہ تشہیرکے بعداگر مالک نہ ملے تو اگر اٹھانے والا مالدار ہو تو خود استعمال نہ کرے بلکہ مالک کی طرف سے کسی فقیر کو صدقہ کردے،اور اگر فقیر ہو تو اسے خود   استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔البتہ صدقہ کرنے  یا خود استعمال کرنے کے بعد اگر مالک اسے تلاش کرتا ہواآ جائےاور اس کے مطابق  نشانیاں بھی بتائےتو اٹھانے والے پر لکڑیاں  یااس کی قیمت ادا کرنا  لازم ہوگا۔

 

إن وجد في الماء يجوز أخذه وإن كثيرا لأنه يفسد بالماء والحطب في الماء إن لم يكن له قيمة يأخذه وإن له قيمة فهو لقطة ۔(البحرالرائق،فصل التعریف بالقطة ،ج:5، ص:165)

 وللملتقط أن ينتفع باللقطة بعد التعريف لوفقيرا وإن غنيا تصدق بها ولو على أبويه أو ولده أو زوجته لو فقراء ۔۔۔وللمالك أخذها ولايجب دفع اللقطة إلى مدعيها إلا ببينة ويحل إن بين علامتها من غير جبر.(ملتقي الأبحر، كتاب اللقطة، ج:1،ص:529)


فتویٰ نمبر : 5119/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں