بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

سیلاب میں بہہ کر آنے والی چیزوں کا حکم


سوال

سیلابی ریلے میں اکثر اوقات قیمتی اشیاء فرنیچر اور گھریلوں قیمتی چیزیں آجاتی ہیں یہاں اکثر لوگ انہیں حاصل کرنے کے لئے سیلابی موجوں سے کھیلتے ہوئے بعض اوقات اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کیا ان اشیاء کا حکم بھی لقطے کاہے اوران کو استعمال کرنے کی بھی کوئی حدہے یانہیں؟ بعض اوقات غریب لوگ اتنی چیزیں حاصل کرتے ہیں کہ وہ لکھ پتی بن جاتے ہیں۔

جواب

            پانی  میں جو مملوکہ سامان بہہ  کر آتا ہے شرعاً یہ لقطہ کے حکم میں ہوتا ہے ، اگر لقطہ قیمتی  چیزہو تو اس کی تشہیر کرنا ضروری  ہے، تشہیر کے بعد مالک نہ ملنے کی صورت میں اگراٹھانے والا فقیر ہو تو اسے خود استعمال  کرسکتا ہے،البتہ اگر وہ  مالدار ہو تو اسےمالک کی طرف سے  غریبوں  میں صدقہ کرےگا۔

             صورت مسئولہ کے مطابق اگر سیلاب میں بہہ کر آنے والی چیزیں قیمتی ہوں تو اٹھانے والے پراس کی تشہیر لازم ہوگی،اوراسے محفوظ  رکھے تاکہ مالک کے آجانے کے بعداسے حوالہ کرے،البتہ تشہیرکے بعداگر مالک نہ ملے تو اگر اٹھانے والا مالدار ہو تو خود استعمال نہ کرے بلکہ مالک کی طرف سے کسی فقیر کو صدقہ کردے،اور اگر فقیر ہو تو اسے خوداستعمال کرنے کی گنجائش ہے۔البتہ صدقہ کرنے  یا خود استعمال کرنے کے بعد اگر مالک اسے تلاش کرتا ہواآ جائےاور اس کے مطابق  نشانیاں بھی بتائےتو اٹھانے والے پروہ چیزیں یااس کی قیمت ادا کرنا  لازم ہوگا۔

 

إن وجد في الماء يجوز أخذه وإن كثيرا لأنه يفسد بالماء والحطب في الماء إن لم يكن له قيمة يأخذه وإن له قيمة فهو لقطة ۔(البحرالرائق،فصل التعریف بالقطة ،ج:5، ص:16)

وللملتقط أن ينتفع باللقطة بعد التعريف لوفقيرا وإن غنيا تصدق بها ولو على أبويه أو ولده أو زوجته لو فقراء ۔۔۔وللمالك أخذها ولايجب دفع اللقطة إلى مدعيها إلا ببينة ويحل إن بين علامتها من غير جبر.(ملتقي الأبحر، كتاب اللقطة، ج:1،ص:529)


فتویٰ نمبر : 5127/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں