بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مہتمم کی تنخواہ کا تقرر


سوال

 السلام علیکم عرض یہ ہے میں ایک مدرسۃ البنات کا مہتمم ہوں ذرا رہنمائی فرمائیں ۔ کافی دنوں سے تنخواہ کے حوالہ سے پریشان ہوں میری بیوی بھی عالمہ ہے اور مدرسہ کی اندرون نگرانی کرتی ہے میں مدرسہ میں تدریس کے ساتھ ساتھ انتظامات بھی کرتا رہتا ہوں،لہذا رہنمائی فرمائیں میرے لئے اور اہلیہ کے لئے کتنی تنخواہ لگانی چاہئے۔ دوسری بات یہ ہے کیا میں اپنی ضروریات یعنی جتنے میرے مہمان ہیں یا مدرسہ سے متعلق احباب کا خرچ ہے کیا اسکا خرچ مدرسہ پر ڈال سکتا ہوں ۔رہنمائی فرما کر ممنون اور مشکور فرمائیں ۔

جواب

              واضح رہےکہ جس مدرسے کی شوری ہو تومہتمم کی تنخواہ اس کےمشورےسےمتعین ہونی چاہیےاور شوری نہ ہو توچند سمجھ دار معتمد افرادکے حوالے کرناچاہیے۔ جو مدرسہ کےحالات اورمہتمم کی ضروریات کے اعتبار سے مناسب تنخواہ مقرر کردیں  ۔

             صورت مسئولہ میں مہتمم اوراس کی اہلیہ کےلیےمدرسےکی شوری  مدرسہ کےحالات اورمہتمم کی ضروریات کےاعتبارسےتنخواہ مقررکرےاورشوری نہ ہونےکی صورت میں مدرسہ کےمعاونین میں سے چند سمجھ دارمعتمدافرادتنخواہ مقرر کریں ۔البتہ تنخواہ  کےعلاوہ  مہتمم کی تمام ضروریات مدرسےسےپوراکرناجائز نہیں۔

 

ولو وقف على دهن السراج للمسجد لا يجوز وضعه جميع الليل بل بقدر حاجة المصلين ويجوز إلى ثلث الليل أو نصفه إذا احتيج إليه للصلاة فيه۔(الفتاوی الھندیة ،کتاب الوقف، الباب  الحادی عشر فی المسجد،ج؛2،ص:459)

وفي الإسعاف وليس لمتولي المسجد أن يحمل سراج المسجد إلى بيته.(البحرالرائق،كتاب الوقف، فصل في احكام المساجد،ج:5،ص:270)

وإجارة الوقف ومال اليتيم لا يجوز إلا بأجر المثل۔(البحرالرائق،كتاب الإجارة،ج:8،ص:4)

وزيادة الأجرة إنما تعتبر إذا زادت عند الكل۔(البحرالرائق،كتاب الإجارة،ج:7،ص:299)


فتویٰ نمبر : 3150/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں