بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

حالت جنابت میں زیرناف بال کاٹنا


سوال

کیا جنابت کی حالت میں زیر ناف بال کاٹنا جائز ہے؟

جواب

              جنابت ایسی نجاست ہے جو دکھائی تو نہیں دیتی لیکن بدن کے ہر ہر جز میں حلول کر جاتی ہے یہاں تک کہ بدن کا ہر بال اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا اور اس کی طہارت کا واحد ذ ریعہ ٖغسل ہے ، لہذا غسل کرنے سے قبل جو بال یا ناخن کاٹا جائے، وہ نجس ہو کر بدن سے علیحدہ ہو جا تا ہے جس کے لیے بعدازاں طہارت کی کوئی صورت باتی نہیں رہتی ، اس لیے غسل سے قبل جنابت کی حالت میں بدن سے زائد بال کاٹنے یا ناخن تراشنے کوفقہاے کرام نے مکروہ  لکھا ہے ۔

 

حلق الشعر حالة الجنابة مكروه، وكذا قص الأظافير. (الفتاوى الهنديه، كتاب الكراهية، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها،ج:5، ص:358)


فتویٰ نمبر : 5115/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں