بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تعویذ باندھنے کی شرعی حیثیت


سوال

کیا تعویذ پہننا جائز ہے؟

جواب

             کچھ کلمات لکھ کر گلے میں بطور تعویذ لٹکا نا درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے: (1) تعویذ قرآنی آیات و احادیث مبارکہ میں وارد شدہ دعاؤں یا اللہ تعالی کے اسما و صفات یا ایسے کلمات پرمشتمل ہو، جن کا معنی  واضح ہواور مفہوم شریعت کے مطابق ہو۔ (2) تعویذ میں غیر اللہ سے مددنہ مانگی گئی ہو، یعنی کلمات شرکیہ یا شرک کا وہم پیدا کرنے والے کلمات پرمشتمل نہ ہو۔(3) تعویذ کے مؤثر حقیقی ہونے کا عقیدہ نہ ر کھے ، بلکہ اسباب کے درجہ میں شمار کر کے اللہ تعالی کی ذات کےمؤثر حقیقی ہونے کا عقیدہ ہو۔ ان شرائط کے ساتھ تعویذ لٹکانا شرعا جائز ہے۔

 

عـن عوف بن مالك قال كنا نرقي في الجاهلية فقلنا يا رسول الله كيف ترى في ذلك فقال اعرضوا علي رقاكم لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك ۔ وفي بذل المجهود: هذا وجه التوفيق بين النهي عن الرقيه والإذن فيها.( بذل المجهود فی حل ابی دائود، کتاب الطب، باب ما جاء في الرقي :ج:16،ص:216)

وقد أجمع العلماء على جواز الرقى عند اجتماع ثلاثة شروط أن يكون بكلام الله تعالى أو بأسمائه وصفاته وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى .(فتح الباري،كتاب الطب،باب الرقی بالقرآن، ج:11،ص:352،رقم الحديث:5735)


فتویٰ نمبر : 5116/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں