بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نماز کے بعض مشہورفضائل


سوال

نماز میں تکبیر اولی پڑھنے  پر دنیا و مافیہا سے زیادہ اجر ملتا ہے،  ثناء پڑھنے پر ایک نفلی حج کا ثواب ملتا ہے،  تعوذ پڑھنے پرجسم کے ہر بال کے برابر نیکی ملتی ہے،  تسمیہ پڑھنے پر 74 ہزار نیکیاں ملیں گی اور   عذاب کےانیس فر شتے  اس سے  دور ہو جائیں گے، سورہ فاتحہ پڑھنے پر  اور اس کے ساتھ سورت ملانے پر چار آسمانی کتابوں کو ختم کرنے کا اجر ملے گا،  ہر آیات کو ٹھہر ٹھہر کر پڑے گا تو اللہ تعالی جواب دے گا،  رکوع میں جانے پر تکبیر کہے گا تو آسمان اور زمین نیکیوں سے بھر جائے   گا،  رکوع میں تسبیح پڑھنے پر اپنے بدن کے برابر سونا صدقہ کرنے   کا ثواب ملے گا،  تحمید اور اس کے بعد (حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ) پڑھنے پر رحمت کی بارش ہوگی،  پھر سجدے میں تکبیر پڑھنے سے زمین اور آسمان نیکیوں سے بھر جائے گا،  سجدے میں تسبیح پڑھنے پر اللہ کے عرش اور کرسی کے وزن کے برابر ثواب ملتا ہے ، جلسے میں اللہ کی رحمت کی بارش ہوتی  ہے، دونوں قعدوں  میں دو نبیوں کا اجر ملتا ہے ایوب  اور حضرت یعقوب علیہما السلام  والا اجر، سیدھی طرف سلام پھیرتا ہے، تو جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں، الٹی طرف سلام پھیرتا ہے تو جہنم کے سات دروازے اس کے  لیے بند ہو جاتے  ہیں ، نماز میں سلام پھیر کر ایک مرتبہ اللہ اکبر اور تین مرتبہ استغفار کہتا ہے تو نماز میں جو غلطی کوتاہی ہوتی  ہے،  وہ معاف کر دی جاتی  ہے اور نماز قبول کرلی جاتی ہے ،یہ ساری چیزیں خشوع و خضوع سے نماز پڑھنے پر ملتی ہیں۔

کیا یہ ساری باتیں جو میں نے ایک شخص سے سنی ہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں؟

جواب

سوال میں ذکرکردہ فضائل میں  سےصرف رکوع سےاٹھتےوقت جوحمدپڑھی جاتی ہےصحیح روایت میں مل گئی چنانچہ"حمداکثیراطیبامبارکافیه" کےبارےمیں صحیح روايت ہے کہ رفاعہ بن رافع الزرقی کہتےہیں کہ ہم ایک دن نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہےتھے ،جب آپ نےرکوع سے سر اٹھایا،توفرمایا:سمع اللہ لمن حمدہ ،پیچھےسےایک شخص نےکہا:"ربناولک الحمدحمداکثیراطیبامبارکافیه"جب آپ نےسلام پھیرا ،فرمایا:کہ متکلم کون ہے۔اس شخص نے عرض کیا:میں ہوں۔فرمایا:کہ میں نے تیس سےزیادہ فرشتے دیکھےجولکھنےکےلئےایک دوسرےسےبڑھ رہے تھے۔

اس کےعلاوہ باقی فضائل ہمیں نہیں مل سکے۔

 

عن رفاعة بن رافع الزرقي، قال: " كنا يوما نصلي وراء النبي صلى الله عليه وسلم، فلما رفع رأسه من الركعة قال: سمع الله لمن حمده "، قال رجل وراءه: ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه، فلما انصرف، قال: «من المتكلم» قال: أنا، قال: «رأيت بضعة وثلاثين ملكا يبتدرونها أيهم يكتبها أول»۔(صحيح البخاري،باب فضل اللهم ربنالك الحمد،ج:1،ص:159)


فتویٰ نمبر : 9300/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں