بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امام مسجدکوزکوۃدینا


سوال

ایک شخص ایک محلہ کاامام ہے۔اہل محلہ کی طرف سےاس کےلیےکوئی تنخواہ مقررنہیں،مگراس کوزکوۃ وغیرہ دیتےہیں۔توکیاایسےامام کوزکوۃ وغیرہ دیناجائزہےکہ نہیں؟کیونکہ زکوۃ فقرا  کاحق ہے؟

جواب

             جوشخص نصاب کامالک نہ ہواس کوزکوۃاوردیگرصدقات واجبہ دیےجاسکتےہیں،خواہ وہ عام فقیرہویامسجدکاامام ہو،البتہ امامت کےعوض بطوراجرت زکوۃاورعشردیناجائزنہیں۔

            صورت مسئولہ میں امام مسجداگرمالک نصاب نہ ہوتواس کوزکوۃ،صدقۃ الفطریادیگرصدقات واجبہ دیناجائزہے،بلکہ فقہاےکرام فرماتےہیں کہ عالم فقیرپرصدقہ کرناجاہل فقیرسےافضل ہے،تاہم بہتریہی ہےکہ اہل محلہ امام مسجدکےلیےمستقل تنخواہ مقررکریں،تاکہ وہ فکرمعاش سےآزادہوکردین کی خدمت میں مصروف عمل رہے۔

 

ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب وإن كان صحيحا مكتسبا۔(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:189)

التصدق على العالم الفقير أفضل ۔۔۔أي من الجاهل الفقير۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الزكوة،باب المصرف،مطلب في الحوائج الأصلية،ج:3،ص:304)

 


فتویٰ نمبر : 9266/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں