بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

دواساز کمپنیوں کا ڈاکٹروں کوتحائف دینا


سوال

دواسازکمپنیاں اپنے نمائندے کے ذریعے ڈاکٹروں کو اپنی دوائیاں لیٹریچر کے ساتھ پیش کرتی ہیں اور انہیں اپنی دوا لکھنے کی طرف راغب کرتی ہیں۔ جب ڈاکٹر ان کی دوائیں لکھتے ہیں تو زیادہ لکھنے کے لیے کمپنیاں ڈاکٹروں کو مختلف تحائف(چیک، بیرون ملک سفر، فرنیچر وغیرہ) دیتی ہیں۔ کمپنی کا ڈاکٹروں کو تحائف دینا اور ڈاکٹروں کے لیے اس کا لینا کیسا ہے؟

جواب

            ڈاکٹر جو مریض سے فیس وصول کرتا ہے وہ اس کے مرض کی تشخیص اور علاج بتلانے کی کرتا ہے جو کہ شرعاً جائز ہے، اس کے علاوہ کسی کمپنی کی دوا تجویز کرنا یہ ڈاکٹر کی ذاتی رائے ہے جو کہ متعلقہ کمپنی پر اچھی کارکردگی کا اظہار اور اعتماد کی بنا پر ہوتی ہے یہ کوئی ایسی محنت اور خدمت نہیں جس کا باقاعدہ معاوضہ طے کیا جا سکے بلکہ عموماً یہ رشوت کی ایک نئی شکل بن جاتی ہے جو فن طب کے مقدس شعبہ سے وابستہ حضرات کے لئے خلاف شریعت اور خلاف مروت بھی ہے۔

            جہاں تک کسی ڈاکٹر کے مطالبے کے بغیر تحائف یا دیگر سہولیات وغیرہ ملنے کا مسئلہ ہے تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر چیزوں کی مالی حیثیت معمولی ہو جس سے ڈاکٹر خود کو زیر بار محسوس نہ کرےاور نفسیاتی طور پر غیر ضروری دوائیں لکھنے کی طرف مجبور بھی نہ ہو تو ان کے لینے اور استعمال کرنے کی گنجائش ہے اور اگر ڈاکٹر ان تحائف اور عطایا کی وجہ سے کمپنیوں کے کسی ناجائز اقدام کو سہارا دینے کے لیے استعمال ہوتا ہو تو رشوت ہونے کی بنا پر ان ہدایا کا قبول کرنا ناجائز ہوگا اس کے علاوہ ایسے قیمتی تحائف اور بھاری پیشکش جو ڈاکٹر کو رشوت بنام تحفہ کے طور پر دی جاتی ہیں چونکہ عموماً اس سے ڈاکٹر کے ضمیر کا سودا ہی مقصود ہوتا ہے اس لیے شرعاً ایسے تحائف قبول کرنا جائز نہیں۔

 

قال العلامة الآلوسي تحت قوله تعالى: "يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ۔۔۔ النساء: 29" والمعنى لا يأكل بعضكم أموال بعض، والمراد بالباطل ما يخالف الشرع كالربا والقمار والبخس والظلم ۔ ۔ ۔ وعن الحسن هو ما كان بغير استحقاق من طريق الأعواض۔ (تفسير روح المعاني، ج:5، ص:17)

وقال - صلى الله عليه وسلم - «الراشي والمرتشي والرايش في النار، ولعن الله من أعان الظلمة، أو كتب لهم» والأصل في الكل قوله {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2]۔ (کتاب المبسوط للسرخسی، کتاب الصرف، ج:14، ص:8)


فتویٰ نمبر : 5120/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں