بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

سیلاب میں بہہ کر آنے والی چیزیں استعمال کرنا


سوال

سیلاب میں بہہ کر آنے والی چیزوں کا کیا حکم ہے ؟ کیا اٹھانے والے اس کو اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں؟

جواب

           سیلاب میں ملنے والی اشیاء اگر بالکل بے قیمت اور ردی ہوں تو اس کے پانے والے شخص کے لیے اس کا لینا جائز اور حلال ہےاور اگر قیمتی چیز ہو تو اس کا حکم لقطے کا ہے ،لہذا اس کی نوعیت کے مطابق اس کے مالک کے ملنے کا انتظار کیا جائےاور اسے محفوظ رکھا جائےاور جب غالب گمان ہوجائےکہ مالک اس کو تلاش نہیں کرے گاتو اس کو صدقہ کرے اور اگر فقیر ہو تو خود بھی استعمال کرنے کی گنجائش ہے اور اس کے بعد اگر مالک ملے اور وہ اس پر راضی نہ ہو تو اس اٹھانے والے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کے مالک کو اس کی قیمت ادا کرے۔

 

حطب وجد في المآء إن كان له قيمة فلقطة،وإلا فحلال لأخذه.(تنوير الابصار مع الدر المختار:كتاب اللقطة،ج:6،ص:444,443)


فتویٰ نمبر : 5108/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں