بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

عالم کے ہاتھ کا بوسہ لیتے وقت جھکنا


سوال

ہمارے ہاں لوگ علماء سے ہاتھ ملاتے وقت  بوسہ لینے کے لیے جھک جاتے ہیں ،کیا یہ جھکنا شریعت کے خلاف  اور ناجائز ہے ؟ جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس میں غیر اللہ کے سامنے جھکنا لازم آتا ہے ۔

جواب

            غیر اللہ کے سامنے جھکنے کی ممانعت اس وقت ہے ،جب جھکنے سے مقصود تعظیم یا عبادت ۔

            بزرگوں سے ملتے وقت بوسہ لینے کی غرض سے جھکنے کے عدم جواز کی کوئی وجہ نہیں،بلکہ اگر اس میں  محبت وعقیدت کی نیت کی جائے تو باعث اجروثواب ہے۔علماء وصلحاء کے ہاتھ چومنے میں کوئی حرج نہیں۔

 

ويكره الانحناء عند التحية وبه ورد النهي كذا في التمرتاشي…… تقبيل يد العالم والسلطان العادل جائز ،ولارخصة في تقبيل يد غير هما هوالمختار.(الفتاوى الهندية:كتاب الكراهية،الباب الثامن والعشرون في ملاقات الملوك،ج:5،ص:369)


فتویٰ نمبر : 5109/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں