بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مبیع کی بازاری قیمت کم ہو جانے کی صورت میں اقالہ کا حکم


سوال

دوکاندار نے گاہک کو ایک ہزار روپے میں مال دیا تھا ایک مہینہ بعد وہ گاہک مال واپس کرنا چاہتا ہے لیکن اس وقت مال کا ریٹ تین سو روپے ہوگیا ہے تو تین سو کے حساب سے مال واپس کرنا  کیسا ہے؟

جواب

           واضح رہے کہ کسی چیز کی خرید و فروخت میں متعاقدین جس قیمت پر راضی ہو جائیں  توخریدار پر اس چیز کے عوض وہی قیمت فروخت کنندہ کے لیے لازم ہو جاتی ہے۔ اب اگر کچھ دنوں بعد خرید ار اس مال کو واپس کر نا چا ہے  تواسی قیمت کے عوض اس کو واپس کرے گا، جس قیمت پر اس نے خریدی تھی، اگر چہ بازار میں اس چیز کی قیمت کم یا زیادہ ہو گئی ہو۔ البتہ اگر دونوں طرف سے مکمل ادائیگی ہوچکی ہو اور وہی مال نئے سرے سےسابقہ قیمت سے کم یا زیادہ کے بدلے فروخت کرے تو یہ  جائز ہے۔

           صورت مسئولہ میں گاہک کا ایک  ہزار( 1000)روپے کے عوض خرید اہوا مال تین سو(300) روپے میں  بائع کو واپس کر ناشر عا جائز نہیں۔ البتہ طرفین کی رضامندی سے  بیع جدید کی صورت میں تین  سو(300) روپے میں   وہی مال دوبارہ  فروخت کیا جاسکتا ہے۔

 

وتصح بمثل الثمن الأول وشرط الأکثرأوالأقل بلا تعیب وجنس آخر لغو، ولزمه بمثل الثمن الأول۔(البحرالرائق شرح كنزالدقائق، كتاب البيع باب الاقالة، ج:6،ص:173)


فتویٰ نمبر : 3114/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں