بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

بیعت کی ضرورت اور اہمیت


سوال

بیعت کرنے کے کیا معنی اور اہمیت ہے؟ کیا آج کے دور میں کسی بزرگ یا پیر صاحب کی بیعت کرنا بہتر ہے ؟

جواب

               ایک مسلمان کو اپنے اعمال ظاہرہ وباطنہ میں شریعت کا مکمل پابند ہونا ضروری ہے، اعمال ظاہرہ مثلاً نماز ،روزہ ،عبادات ، خرید وفروخت، رہن سہن وغیرہ امور معاملات ومعاشرت میں شریعت کی پابندی کرنا اوراعمال باطنہ جیسے  قلب میں اخلاص پیدا کرنا، اُسے توکل قناعت، تواضع صبر وشکر سے متصف کرنا، اللہ اور اس کے رسول کی محبت پیدا کرنا وغیرہ امور قرآن وحدیث کی ہدایت وتعلیم کے مطابق اپنے اندر پیدا کرنا اور ان کے حصول کی فکر وکوشش کرنا   ہرمسلمان کے ذمہ ضروری ہے، اسی طرح برائی اور گناہ کے کاموں سے بچنا، اخلاق رذیلہ سے دل  کو پاک کرنا مثلاً جھوٹ، غیبت، چوری وغیرہ اور تکبر، حرص، حب ِجاہ ومال وغیرہ امور کو دور کرنا بھی ضروری ہے، عموما  یہ اصلاح کسی کامل شیخ کی صحبت اختیار کیے اور اس سے اصلاحی تعلق قائم کیے بغیر مکمل نہیں ہوتی، اس لیے کسی شیخ کامل سے اصلاحی تعلق قائم کرنا بھی ضروری ہوا، اصلاحی تعلق کو پختہ کرنے کے لیے بیعت کا طریقہ ہے۔بزرگان دین جو بیعت لیتے ہیں یہ آپﷺ کی سنت پر عمل ہے جس میں  چند گناہوں  سے توبہ کرواتے ہیں اوراللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کیا جاتا ہے۔

بیعت کے لیے شیخ ایسا ہونا چاہیئے جو بقدر ضرورت علم رکھتا ہو،عقائد حقہ ،اعمال صالحہ،اخلاق فاضلہ کے ساتھ متصف ہو،اپنے باطن کی اصلاح کسی شیخ   کی تربیت میں رہ کر کرچکا ہو۔

 

قال اللہ تعالی:﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَن لاَّ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلا يَسْرِقْنَ وَلا يَزْنِينَ وَلا يَقْتُلْنَ أَوْلادَهُنَّ وَلا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيم﴾.(سورة الممتحنة:12)

وعن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم وحوله عصابة من أصحابه : " بايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا ولا تسرقوا ولا تزنوا ولا تقتلوا أولادكم ولا تأتوا ببهتان تفترونه بين أيديكم وأرجلكم ولا تعصوا في معروف فمن وفى منكم فأجره على الله ومن أصاب من ذلك شيئا فعوقب به في الدنيا فهو كفارة له ومن أصاب من ذلك شيئا ثم ستره الله عليه في الدنيا فهو إلى الله : إن شاء عفا عنه وإن شاء عاقبه " فبايعناه على ذلك.متفق عليه(مشكاة المصابيح:كتاب الايمان،الفصل الاول،ج:1،ص:4)       


فتویٰ نمبر : 5126/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں