بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

حشفہ (عضو خاص کا سر) کٹے شخص پر ہمبستری کرنے سےغسل کا وجوب


سوال

اگر کسی شخص کا حشفہ  (عضو خاص کا سر)  ڈاکٹر کی نا اہلی اور لا پرواہی کی وجہ سے کٹ گیا ہو، اور اس کی شادی ہوچکی ہوں، اب کیا ہمبستری کرنے سے اس پرغسل واجب ہوگایا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ جماع کے وقت مرد کی شرمگاہ عورت کی شرمگاہ میں داخل ہوجائے تو اس سے غسل واجب ہوتا ہے،اگرچہ منی کا خروج نہ ہوا ہو۔

           صورت مسئولہ کے مطابق  اگر کسی کا حشفہ (عضو خاص کا سر)کٹا ہوا ہو، تو حشفہ کے بقدر باقی ماندہ عضو خاص بیوی کی شرمگاہ میں داخل ہونے سے بھی میاں بیوی دونوں پر غسل واجب ہوجائے گا، چاہے منی نہ نکلے۔

 

(‌قوله: ‌وتواري ‌حشفة ‌في ‌قبل أو دبر عليهما) أي وفرض الغسل عند غيبوبة ما فوق الختان، وكذلك غيبوبة مقدار الحشفة من مقطوعها في قبل امرأة يجامع مثلها أو دبر على الفاعل والمفعول به، وإن لم ينزل۔(البحرالرائق، كتاب الطهارة،  فصل موجبات الغسل، ج:1، ص:61)


فتویٰ نمبر : 9263/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں