بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

بیت الخلاء میں ننگے سر جانا


سوال

ننگے سر بیت الخلاء جانا کیسا ہے؟ شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

           ننگے سر بیت الخلاء جانا خلاف ادب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ بیت الخلاء میں  سر ڈھانپ کر داخل ہوتے تھے، اس لیے سر ڈھانپ کر بیت الخلاء جانا چاہیے۔

 

عن حبيب بن صالح، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم " ‌إذا ‌دخل ‌الخلاء ‌لبس حذاءه، وغطى رأسه"۔(السنن الكبرى، ‌‌كتاب الطهارة، باب تغطية الرأس عند دخول الخلاء۔۔۔ج:1، ص:155)

‌إذا ‌أراد ‌دخول ‌الخلاء ‌يستحب ‌له ‌أن ‌يدخل ‌بثوب (الی قولہ) ويدخل مستور الرأس۔(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، ج:1، ص:50)


فتویٰ نمبر : 9263/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں