بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

فورسیج (FORSAGE) آن لائن کمپنی میں انوسمنٹ کرنا


سوال

آج کل فورسیج (FORSAGE) کے نام سے ایک آن لائن کمپنی چل رہی ہے جو کہ بلاک چین سسٹم پر کام کرتا ہے، مختصر تعارف یہ ہےکہ آپ اس میں دس ڈالر یعنی تقریباً 2800 پاکستانی روپے انوسٹ کر کے کمپنی جوائن کرتے ہیں ، جس کے ریفرنس سے آپ نے کمپنی جوائن کی اس کو 1000 روپے ملتے ہیں اور آگے آپ نے بھی ٹیم بنانی ہوتی ہے لوگوں سے جوائننگ کروانی ہوتی ہے اور ہر ایک بندہ کو جوائن کروانے پر کمپنی آپ کو 1000 روپیہ دیتی ہے ،نیز کمپنی کی اپنی کوئی مصنوعات نہیں ہےبلکہ 2800 میں سے1000 آپ کو ملتا ہے اور 1800 کمپنی کو،  کیا اس طرح بلاک چین سسٹم سے کمانا شریعت مطہرہ کی نظر میں درست ہے؟

جواب

           فورسیج (FORSAGE) آن لائن کمپنی کا جو طریقہ کار بتایا گیا ہے اس میں قمار (جوا) پایاجاتا ہے کہ کمپنی  جوائن کرنے کے لیے 2800 روپے جمع کئے جاتےہیں، کمپنی جوائن کرنے کے  بعد ممبر کو 1000 روپے تب ملتے ہیں جب وہ  کسی اور کو ممبر بنائےگا ورنہ ممبر کو پیسے نہیں ملیں گے یعنی اس بات کا خطرہ ہے کہ یا تو اصل سرمایہ سے بھی ہاتھ دھوئے گا یا ان پیسوں سےزیادہ پیسے آئیں گے۔

           لہذا اس کمپنی کو جوائن کرنا اور نفع کمانا جائزنہیں ہیں۔

 

قال اللہ تعالی :يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة:90)

فلو جوزناہ لکان استحقاقا بغیر عمل ولم یرد بہ الشرع۔(الھدایۃ، کتاب المساقاۃ ، ج :4 ص: 430 )

لأن ‌القمار ‌من ‌القمر ‌الذي ‌يزداد ‌تارة ‌وينقص ‌أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص۔(رد المحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الحظر والإباحة، ‌‌فصل في البيع، ج:6، ص:403)


فتویٰ نمبر : 3104/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں