بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خون سے رضاعت کا عدمِ ثبوت


سوال

کسی کو خون دینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوسکتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ جس طرح کسی بچے کو دودھ دینے سے جزییت ثابت ہوتا ہے اس طرح خون سے بھی نشونما ہوتا ہے، تو پھر خون دینے سے حرمت رضاعت کیوں ثابت نہیں ہوتی؟

جواب

           واضح رہے کہ جزئیت، حرمتِ رضاعت کے لیے  حکمت ہے، جب کہ اس حرمت کی  علت  نص ہے،  صاحب کفایہ وفتح القدیر فر ماتے ہیں،کہ جزئیت کا ہونا بیان ِحکمت ہے۔ چونکہ  حکم لاگو ہونے میں اعتبار علت کو  ہوتا ہے  حکمت کو نہیں اور علت  "نص" میں صرف دودھ کا ذکر ہے، خون کانہیں، اس لئے خون  دینےسے رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔

 

(قوله: ‌هو ‌مص ‌الرضيع من ثدي الآدمية في وقت مخصوص) أي وصول اللبن من ثدي المرأة إلى جوف الصغير من فمه أو أنفه في مدة الرضاع الآتية۔۔۔‌فإن ‌الحرمة تثبت بإيجار هذا اللبن صبيا، وإن لم يوجد المص۔۔۔ وخرج بالوصول لو أدخلت امرأة حلمة ثديها في فم رضيع ولا يدري أدخل اللبن في حلقه أم لا ؟ لا يحرم النكاح۔(البحرالرائق، كتاب الرضاع، ج:3، ص:387/386)

(قوله ولأن الحرمة وإن كانت لشبهة البعضية) جواب سؤال هو أن الحرمة بالرضاع لاختلاط البعضية بسبب النشوء الكائن عنه وذلك لا يتحقق بأدنى شيء.أجاب بأن ذلك حكمة؛ لأنه خفي والأحكام لا تتعلق بها لخفائها بل الظاهر المنضبط وهو فعل الارتضاع۔(فتح القدير، ‌‌كتاب الرضاع، ج:3، ص:441)


فتویٰ نمبر : 6489/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں