بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

خریداری پر بذریعہ قرعہ اندازی انعام ملنا


سوال

ایک کتب خانہ والے نےاپنی کتابوں کوزیادہ سے زیادہ فروخت کرنے اور مارکیٹ میں اپنے گاہگ بڑھانے کے لیے ایک انعامی سلسلہ شروع کیا ہے،اوروہ اس طرح کرتے ہیں کہ ایک ہفتہ کے اندر اندر پندرہ(15) ایسے  گاہگ جو پانچ  ہزار(5000)کے کتابوں کی خریداری کریں تو قرعہ اندازی کے ذریعے پہلی ،دوسری اور تیسری  نمبر پر آنے والے کے لیے تین قسم کے انعامات    کا وعدہ اپنی طرف سے کرتے ہیں جب کہ بکنے والی کتابوں کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ نہیں ہوتی اور کتابیں بھی اعلی قسم کی ہوتی ہیں  کیا یہ جائز ہے؟

جواب

             کسی بھی کمپنی ،یا دوکان کا  اپنی چیزوں  کی فروخت بڑھانےکے لیے بذریعہ قرعہ اندازی انعامی سلسلہ شروع کرنا درج ذیل شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔پہلی شرط یہ ہے کہ سامان کی قیمت کو نہ بڑھایا جائے۔دوسری شرط یہ ہے کہ سامان کی خریداری ضرورت کی وجہ سے ہو ،انعام کی وجہ سے  نہ ہو۔

          صورت مسؤلہ میں اگر مذکورہ شرائط کی مکمل رعایت رکھی جائے تودوکاندار کا قرعہ اندازی کے ذریعہ گاہک کو انعام دینا اپنی طرف سے  تبرع اور احسان  ہوگا اور گاہک کے لیے اس انعام کا لینا جائز ہوگا۔

 

وفي الأقضية قسم الهدية وجعل هذا من أقسامها فقال: حلال من الجانبين كالإهداء للتودد۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار، كتاب القضاء،مطلب فی الكلام علی الرشوة والهدية،ج:5،ص:362)

القرعة ثلاث: الأولى لإثبات حق وإبطال حق آخر وإنها باطلة، كمن أعتق أحد عبديه بغير عينه، ثم تعين بالقرعة، والأخرى لطيبة النفس، وإنها جائزة كما يقرع بين النساء ليسافر بها، والثالث لإثبات حق واحد وفي مقابلة مسألة ليقر بها كل حق كالقسمة وهو جائز والله أعلم.(المحيط البرهاني،الفصل الثالث القسمة في الخيار، ج:7، ص:356)

ﻳﺠﻮﺯ ﻣﻨﺢ ﺟﺎﺋﺰﺓ ﻳﺸــﺘﺮﻁ ﻟﻠﺪﺧﻮﻝ فی ﺍﻟﺴﺤﺐ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﺷﺮﺍﺀ ‫ﺳﻠﻌﺔ ﺃﻭ ﺧﺪﻣﺔ ﺑﺎﻟﺸﺮﻭﻁ ﺍﻵﺗﻴﺔ۔ ﺃﻻ ﹸﻳــﺰﺍﺩ فی ﺍﻟﻤﺸــﺘرﻁ ‫ﺛﻤﻦ ﺍﻟﺴــﻠﻌﺔ ﺃﻭ ﺍﻟﺨﺪﻣﺔ ﺷــﺮﺍﺅﻫﺎ ﻟﻠﺪﺧﻮﻝ فی ﺍﻟﺴــﺤﺐ ﻋﻦ ﺳــﻌﺮﻫﺎ ﺑﺪﻭﻥ ﺣﻖ ‫ﺍﻟﺴﺤﺐ‪ ‫‪ ۔ﺃﻥ ﺗﻜﻮﻥ ﺍﻟﺴــﻠﻌﺔ ﺃﻭ ﺍﻟﺨﺪﻣﺔ ﺍﻟﻤﺸــﺘﺮﻁ ﺷﺮﺍﺅﻫﺎ ‫ﻟﻠﺪﺧﻮﻝ فی ﺍﻟﺴﺤﺐ ﻣﻤﺎ ﻳﻘﺼﺪ ﺷﺮﺍﺅﻩ ﺑﺼﺮﻑ ﺍﻟﻨﻈﺮ ﻋﻦ ‫ﺍﻟﺠﺎﺋﺰة۔(ﺍﻟﻤﻌﺎﻳﻴﺮ ﺍﻟﺸﺮﻋﻴﺔ،نص المعیارالمسابقات والجوائز،رقم المعیار:55،ص:1287)


فتویٰ نمبر : 5105/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں