بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بائع کا مبیع کے عیوب سے برأت کا اظہار کرنا


سوال

میں نےظہر کے وقت ایک دکاندار سے موبائل خریدا۔  دکاندار نے فروخت کرتے وقت مجھ سے کہا کہ" یہاں موبائل اچھی طرح چیک کرکے خریدلو، اگر ایک  دفعہ دکان  کے سامنے سےبھی چلے گئے اور بعد میں کوئی نقص نکل آیا تو پھر میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں گا"میں نے اس کے کہنے کے مطابق وہیں بہت دفعہ چیک کیا لیکن کوئی نقص نہیں پہچان  سکا، لیکن مغرب کے وقت  جب میں نے  دوست کو موبائل دکھایا تو اس نے بہت خامیاں نکالیں اور کہا کہ یہ بہت بے کار موبائل ہے یہ واپس کردو، تو کیا  اب میں یہ موبائل واپس کرسکتاہوں؟

جواب

              بائع کا مبیع کے تمام عیوب سے برأت کا اعلان کرنا درست ہے ، لہذا ایسی صورت میں اگر مشتری خریداری کے بعد کوئی نقص دیکھ کر مبیع  واپس کرنا چاہے تو اس کو یہ اختیار حاصل نہیں ہوتا،  البتہ اگر بائع رضامندی سے اقالہ (بیع ختم کرنے کے لیے) تیار ہو جائے تو الگ بات ہے۔

            صورت مسئولہ میں جب دکاندار نے پہلے ہی سے مشتری کے سامنے موبائل کے عیوب سے برأت کا اظہار کیا تھا، تو بعد میں نقص پائے جانے کی صورت میں اسے واپس کرنے کا حق حاصل نہیں ۔

 

ومن اشترى عبدا وشرط البراءة من كل عيب فليس له أن يرده بعيب وإن لم يسم العيوب ولم يعدها. (مختصر القدوري، كتاب البيوع، باب خيار العيب، ج:1، ص:82)

(قال: ومن باع عبدا وشرط البراءة من كل عيب فليس له أن يرده بعيب) قال ابن الهمام تحت قوله: (ومن باع عبدا) ليس العبد بقيد، فإن البيع بشرط البراءة من كل عيب صحيح في الحيوان وغيره. (فتح الدقدير، كتاب البيوع، باب خيار العيب، ج:6، ص: 38)


فتویٰ نمبر : 3128/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں