بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عورت کا صلح نامہ میں مہر سے دستبردار ہونا


سوال

زید کی بیوی غیر شادی شدہ لڑکوں سے موبائل پر بات کرتی تھی اور لڑکوں کے ساتھ اپنی گندی ویڈیوز بھی شیئر کرتی تھی۔ زید کو جب پتہ چلا تو وہ اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا لیکن زید کے بہنوئی نے لڑکی کی والدہ کو بلایا اور لڑکی کی رضامندی سے معافی نامہ لکھا جس میں زید کے بہنوئی نے ضمانت لی کہ لڑکی غلطی نہیں کرے گی۔ اور اگر اس نے غلطی دہرائیں تو وہ اپنے حق مہر کی حقدار نہیں ہوگی۔ معاہدے کے بعد زید نے اپنی بیوی کو معاف کر دیا۔ لیکن معافی مانگنے کے دو دن بعد لڑکی نے پھر ایک لڑکے کے ساتھ غیر شرعی تعلقات استوار کر لیے۔ اب زید کے بہنوئی نے لڑکی کے باپ سے بھی لکھوا لیا۔ اس کے والد نے اپنی رضامندی سے زید کو اجازت دے دی کہ ان کی بیٹی کا خون تمہارے لیے حلال ہے اور یہ بھی لکھا کہ وہ اپنی بیٹی کا مہر)جو زید کے بہنوئی کے پہلے معاہدے میں لکھا ہے( کبھی نہیں مانگیں گے اب زید نے لڑکی کو طلاق دے دی۔ برائے مہربانی رہنمائی کریں کیا لڑکی کو مہر لینے کا حق ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مہر عورت  کا حق ہوتا ہے،چنانچہ اگر وہ اپنا حق زبانی یا تحریری طور پر معاف کرے تو وہ  معاف ہوجاتا ہے۔البتہ اگر وہ مہر کی معافی کو مستقبل کی کسی شرط پر معلق کرےتو مہر معاف نہیں ہوگا، اگرچہ شرط پائی جائے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ بیوی نے مہر کی معافی کو مستقبل کی شرط پر معلق کیا ہےاس لیے  اس کا مہر معاف نہیں ہوگا، بعد میں وہ اس  کا مطالبہ کرسکتی ہے۔تاہم چونکہ بیوی نے ایسی صورت میں شوہرسے مہر نہ لینے کا وعدہ کیا ہے اس لیے وعدہ کی پاسداری کرتے ہوئے اُسے مہر نہیں لینا چاہیے۔

 

‌للمرأة ‌أن ‌تهب مالها لزوجها من صداق دخل بها زوجها أو لم يدخل وليس لأحد من أوليائها أب ولا غيره الاعتراض عليها، كذا في شرح الطحاوي. (الفتاوى الهندية،كتاب النكاح، ج:1، ص:316)

‌لا ‌يصح ‌تعليق ‌الإبراء عن الدين بشرط محض كقوله لمديونه إذ جاء غد أو إن مت بفتح التاء فأنت برئ من الدين أو إن مت من مرضك هذا أو إن مت من مرضي هذا فأنت في حل من مهري فهو باطل، لأنه مخاطرة وتعليق (إلا بشرط كائن) ليكون تنجيزا كقوله لمديونه إن كان لي عليك دين أبرأتك عنه صح. (الدرالمختارمع رد المحتار، فصل في مسائل متفرقة،ج:5، ص:707)


فتویٰ نمبر : 6591/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں