بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مرتہن کا مرہونہ زمین استعمال کرنا


سوال

راہن کا رہن کے طور پر مرتہن کے پاس زمین  رکھے اور مرتہن بغیر اذن راہن کے اس زمین میں فصل بوئے لیکن فصل اتنی پیدا ہو جتنا مرتہن نے اس پر خرچہ کیا ہے تو اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فصل مرتہن کیلئے مرہونہ سے نفع اٹھانا شمار ہوگا یا نہیں کیونکہ فصل تو اس کے خرچہ کے مطابق نکلا ہے نہ کہ زائد،گویا کہ اپنا خرچہ وصول کیا ہے نہ کہ نفع،دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ پیدا شدہ فصل راہن کا ہوگا یا مرتہن کا؟ اور تیسرا سوال یہ کہ بغیر اذن راہن کے یہ تصرف اس کیلئے جائز ہے یا نہیں؟  

جواب

               مرہونہ زمین  سے مرتہن کے لئے نفع اٹھانا اور آمدنی کھانا کسی بھی صورت میں جائز نہیں اگرچہ راہن نے اس کو اجازت بھی دی ہو،کیونکہ راہن قرض ہی کی وجہ سے مرہونہ سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتا ہے اگر قرض نہ ہوتا تو وہ اجازت نہ دیتا ۔لہذا یہ قرض پر منفعت حاصل کرنے کی وجہ سے سود کے حکم میں داخل ہے۔

              صورت مسؤلہ کے مطابق مرتہن کا مرہونہ زمین میں فصل اگانا  مرہونہ سے نفع اٹھانا ہے جوکہ جائز نہیں اور جب راہن کی طرف سے فائدہ اٹھانے کی اجازت کے باوجود مرتہن کے لیےفائدہ اٹھا نا جائز نہیں تو بغیر اذن کے تو بطریقہ اولی جائز نہیں البتہ حاصل شدہ فصل  مرتہن کی شمار ہوگی لیکن اس کے حق میں یہ فصل سود کے زمرے میں آتا ہے  اس لیے ثواب کی نیت کئے بغیر اس کو صدقہ کریگا۔

 

وما يجب على الراهن إذا أداه المرتهن بغير إذنه فهو متطوع، وكذلك ما يجب على المرتهن إذا أداه الراهن، ولو أنفق المرتهن ما يجب على الراهن بأمر القاضي أو بأمر صاحبه يرجع عليه وكذلك الراهن إذا أدى ما يجب على المرتهن بأمر القاضي أو بأمر صاحبه يرجع عليه۔(الفتاوى الهندية،الباب الرابعفي نفقة الرهن،ج:5،ص:455)

وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي وكان من كبار علماء سمرقند أنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا فيكون ربا، وهذا أمر عظيم.(رد المختارعلى الدرالمختار،كتاب الرهن،ج:10،ص:83)


فتویٰ نمبر : 3129/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں