بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

صاحب نصاب بيوی کا غریب شوہر کے لیے زکوۃ لینا


سوال

اگر ایک شخص کی بیوی صاحب نصاب ہو اور وہ خودصاحب نصاب نہ ہو  تو کیا اس کی بیوی  شوہر  کے لیےبطور  وکالت   زکوۃ لے سکتی ہے ؟

جواب

             زکوۃ کی ادائیگی کے درست ہونے کے لیے تملیک ضروری ہے یعنی جس کو زکاۃ دی جا رہی ہو اس کو اس چیز کا مالک بنا دیا جائے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اصل مستحق ہی اس پر قبضہ کرے،بلکہ  مستحقِ زکاۃ کسی دوسرے شخص کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے وکیل بنا سکتاہے اوروہ آدمی اصل مستحق کی طرف سے وکالۃً قبضہ کر لے تو  ایسا کرنا درست ہو گا اور زکاۃ ادا ہو جائے گی۔

             صورت مسؤلہ کے مطابق اگر بیوی  مستحق زکوۃشوہر کی جانب سے زکوۃ کی وصولی کے لیےوکیل مقرر ہوئی ہو وہ شوہر کے لیے زکوۃ لے سکتی ہے۔

 

كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره ۔۔۔لأن يده كيد الموكل ۔۔(الهدايه،كتاب الوكالة،ج:3،ص:140،136)


فتویٰ نمبر : 9248/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں