بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

بھائیوں کے گھر رہائش پذیر بیوہ کا حقِ میراث، بیوہ کا حق میراث اور حق مہر


سوال

 ایک شخص فوت ہوا جس نے دو شادیاں کی تھیں جن میں سے ایک بیوی اس کی زندگی میں ہی فوت ہو چکی تھی جس سے مرحوم کی دو بیٹیاں اور تین بیٹے  بھی تھے البتہ دوسری بیوی سے مرحوم کی کوئی اولاد نہیں ۔ کیا مرحوم کی وہ بیوی جو مرحوم کی موت کے بعد اپنے بھائیوں کے ہاں رہتی ہے مرحوم کے مال میں سے میراث کی حقدار ہوگی یا نہیں؟  کیا مرحوم کے مال میں سے بیویوں کا مہر الگ اور ان کا میراث میں سے حصہ الگ الگ دیا جائے گا یا مہر میراث میں ہی شمار ہوگا؟

جواب

                شرعی نقطہ نظر سے میت جو مال وجائیداد چھوڑجائے  اس کے ساتھ چار حقوق متعلق ہوتے ہیں ، سب سے پہلے ترکہ سے تجھیز وتکفین اور دفن کا انتظام کرنا ضروری ہے ، اس کے بعد جو مال بچ جائے اس سے وہ قرضے  ادا کیے جائیں گےجو میت کے ذمہ لازم تھے،قرضے  میں بیوی کا حق مہر بھی داخل ہے اگر وہ زندگی میں ادا نہ کیا ہو ۔ اور قرض کی ادائیگی کے بعد اگر متوفی نے کوئی وصیت کی ہوتو  بچ جانے والے مال کے ایک تہائی حصہ میں وصیت نافذ کی جائےگی ، اب اس کے بعد جو مال بچ جائے تو میت کے ورثا میں ضابطہ میراث کےتحت تقسیم کیا جائے گا۔

               صورت مسئولہ میں میت کے مال میں سے تجہیز و تکفین کے بعد اگر مہر ادا نہ کیا ہو تو مہر الگ کر کے  ادا کیا جائے گا۔ جو بیوی مرحوم کی زندگی ہی میں فوت ہو چکی ہے اگر اس کو مہر نہیں دیا تھا تو  اس کا مہر اس کے ورثا کو دیا جائے گا ۔نیز اس مہر کی ادائیگی کی وجہ سے ان کا حصہ میراث متاثر نہ  ہوگابلکہ وہ بیوی کا مستقل حق ہے جو میت کی وفات کے وقت زندہ بیوی کو بہر حال  دیا جائے گا۔نیز  میراث میں بیوہ کا حصہ  ادا کرنا لازم ہے چاہےوہ شوہر کے  گھر میں ہی رہائش پذیر ہو یا بھائیوں کے گھر  رہائش اختیار کر چکی ہو  ۔

 

تتعلق بتركة المیت حقوق اربعة مرتبة ، الاول یبدء بتکفینه وتجهيزه من غیر تبذیر ولا تقتیر ثم تقضی دیونه من جمیع ما بقی من ماله ثم تنفذ وصایاه من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثته. (السراجی فی المیراث، ص:5)


فتویٰ نمبر : 3302/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں