بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
حرمت مصاہرت کا اقرار کرکے اس سے رجوع کرنا
سوال
ایک شخص حرمت مصاہرت کی شرط پائے جانے کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوا اور یہ اقرار بھی کیا کہ منگیتر کی ماں جو کہ اس کی پھوپھی ہے اس کے ساتھ شہوت سے ہاتھ لگایا ہے کیااس غلط اقرار سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہو گی یا نہیں؟ جبکہ حقیقت میں حرمت مصاہرت کی شرط یعنی شہوت کے ساتھ منگیتر کی ماں کاہاتھ نہیں لگا ہے تو اس شخص کے لیے اپنی پھوپھی کی لڑکی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص حرمت مصاہرت کے ثبوت کا اقرارکرے توقضاء ًاس پر عمل ہوگامثلا اپنی بیوی کو کہے کہ تم سے نکاح کرنے سے قبل تمھاری ماں سے زنا کیا تھا تو قاضی دونوں کے درمیان تفریق لائے گا اور اگر بعد میں وہ اپنے اقرار سے رجوع کرے اور کہے کہ میں نے جھوٹ بولا تھاتو اس کے رجوع کا اعتبار نہیں ہوگا البتہ اگر حقیقتا ًحرمت مصاہرت ثابت نہ ہو یعنی شوہر اپنے اقرار میں جھوٹا ہو تو ديانۃ دونوں کا نکاح برقرار رہے گا۔
صورت مسئولہ میں اگر اس شخص نے اپنی منگیتر کی ماں کے ساتھ شہوت سے ہاتھ لگانے کاجھوٹا اقرار کیا ہو لیکن اس کو یقین ہو کہ یہ اقرار جھوٹا تھا تواس کے لیے اپنی منگیتر سے نکاح جائز ہے۔
لو أقر بحرمة المصاهرة يؤاخذ به ويفرق بينهما وكذلك إذا أضاف ذلك إلى ما قبل النكاح بأن قال لامرأته:كنت جامعت أمك قبل نكاحك يؤاخذ به ويفرق بينهما ولكن لا يصدق في حق المهر حتى يجب المسمى دون العقد، والإصرار على هذا الإقرار ليس بشرط حتى لو رجع عن ذلك وقال: كذبت فالقاضي لا يصدقه ولكن فيما بينه وبين الله تعالى إن كان كاذبا فيما أقر لا تحرم عليه امرأته(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،في بيان المحرمات،ج:1،ص:339)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں