بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/08/2026

دارالافتاء

 

میراث میں اپنا حصہ چھوڑ دینا


سوال

ایک شخص کو فوت ہوئے دس سال ہو چکے ہیں اور اس کا گھر اس کے ورثا میں تقسیم نہیں ہوا۔ ورثا میں چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں چاروں بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے اب بھائی انہیں اس گھر میں اپنے حصے سے دستبردار ہونے کا کہتے ہیں تو کیا بہنیں اپنے حصے سے دستبردار ہو سکتی ہیں یا انہیں اپنا حصہ لینا پڑے گا؟

جواب

            وراثت میں حاصل ہونے والا حق اختیاری نہیں بلکہ اضطراری ہوتا ہے جس سے وارث دستبردار نہیں ہو سکتا، البتہ اپنا حق وصول کرنے کے بعد وارث کسی کو دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔

            صورت مسؤلہ میں بہنوں نے چونکہ اب تک اپنا حصہ نہیں لیا تو وہ اس سے دستبردار نہیں ہو سکتیں، البتہ گھر کی تقسیم ہونے کے بعد جب وہ اپنے حصہ کی مالکہ ہو جائیں تو پھر بھائیوں کو یا کسی اور کو دینا چاہیں تو دے سکتی ہیں۔

 

لَوْ قَالَ الْوَارِثُ تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ ؛ إذْ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْكِ۔(الأشباه والنظائرلابن نجيم، ج:1، ص:316)


فتویٰ نمبر : 3309/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں