بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

رضاعی بہن کی سگی بہن سے نکاح کرنا


سوال

ایک عورت نے  اپنے بیٹے اور اپنی بھتیجی کو ایک ساتھ  دودھ پلایا ہے ،اب وہ عورت اس لڑکی  کی بڑی بہن جس کو اس   عورت نے دودھ نہیں پلایا اس  سے اپنے بیٹے کا نکاح کرانا چاہتی ہے ۔ کیا شرعا یہ نکاح جائز ہے؟

جواب

              اگر کوئی عورت کسی بچی کو مدت رضاعت میں دودھ پلائے تو اس بچی پر اس عورت  کا شوہراور اس عورت کے تمام اصول و فروع  حرام ہوجاتے ہیں ، تاہم حرمت رضاعت  کا حکم  صرف دودھ پینے والی بچی تک محدود رہتا ہے ۔

            صورت مسؤلہ میں جس بھتیجی نے اس عورت کا دودھ پیا ہے وہ  اور اس عورت کی اولاد  آپس میں بہن بھائی ہیں   لیکن حرمت نکاح  صرف اس بھتیجی تک محدود رہے گی۔  اس کی بڑی بہن جس نے اس عورت کا دودھ نہیں پیا ، اس کے لیے اس عورت کے بیٹے سے نکاح کرنا جائز ہے۔

 

لو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى إلا الابنة التي أرضعتها أمهم وحدها لأنها أختهم من الرضاعة۔( ردالمحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:4، ص:410/411)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں