بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 16/08/2026

دارالافتاء

 

نماز میں قراءات سبعہ پڑھنے کا حکم


سوال

کیا قراءات سبعہ نماز میں پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ یعنی حس طرح روایت حفص عام طور پر تلاوت کی جاتی ہے۔ تو باقی بھی اسی طرح نماز میں پڑھنا جائز ہے؟ دوسری بات یہ کہ جس طرح روایت حفص کے پڑھنے پر ثواب ملتا ہے تو باقی قراءات کو پڑھنے میں بھی اسی طرح ثواب ہے؟

جواب

             قراء اتِ سبعہ متواترہ میں سے کسی بھی روایت کے مطابق نماز پڑھنے سے شرعاً نماز صحیح ہوجاتی ہے، نیز  ایک رکعت میں ایک روایت کے مطابق اور دوسری رکعت میں دوسری روایت کے مطابق قراء ت کی جائے پھر بھی جائز ہے اور نماز درست ہوجاتی ہے۔جو ثواب  نماز میں روایت حفص کے پڑھنے سے ملتا ہے وہی ثواب باقی قراءات کو پڑھنے  سے بھی ملتا ہے۔  البتہ   عوام میں مشہور ومعروف روایت حفص کے مطابق ہی نماز پڑھنا چاہیے، تاکہ لوگ کسی تشویش میں مبتلا نہ ہوں اورکہیں خدا نخواستہ مذاق کا سبب نہ بنے۔

 

قراءة القرآن بالقراءات السبعة والروايات كلها جائزة ولكني أرى الصواب أن لا يقرأ القراءة العجيبة بالإمالات والروايات الغريبة. كذا في التتارخانية۔ (الہندیة: ج:  1/ص:79)


فتویٰ نمبر : 9255/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں