بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مال کے عوض ملازمت کے حق سے دست بردار ہونا


سوال

میرا( (PST پرائمری سکول ٹیچنگ کے پوسٹ پر تقرری ہوئی ہے۔کل پوسٹیں دس تھی اور انٹرویوں میں بندے زیادہ تھے ، اب جو آدمی گیاروہ نمبر پر تھا۔ مجھے کہا کہ میں آپ کو  ایک لاکھ روپے دیتا ہوں، اور اپنا پوسٹ مجھے بیچ دو۔ تو کیا میں یہ روپے  میرے لے جائز   ہے یا نہیں؟

جواب

              ملازمت  کے امتحان میں تقرری  اورملازمت کا مستحق ہونا  یہ ایک حق مجرد ہے مال نہیں جس کو بیچا ناجائز ہے۔

             صورتِ مسئولہ میں جس آدمی کی  (PST) کے امتحان میں تقرری ہوئی ہےاور اس کے نتیجہ میں ملازمت کا مستحق بنا، یہ اس آدمی کا حقِ مجرد  ہے ،یعنی سائل کے پاس صرف یہ ایک حق ہے کہ وہ مذکورہ جگہ پر ملازمت کرسکے کوئی مال وغیرہ نہیں ہے ،لہذا  اپنی جگہ گیارویں نمبر پر آنے والے  شخص سے ایک لاکھ روپے لینا اورحق سے دست بردار ہونا  جائز نہیں ہے ۔

 

الحقوق المجردة لايجوز الاعتياض عنها ۔(الاشباہ والنظائر، كتاب البيوع، ص: 78)

وأفتى في الخيرية أيضًا بأنه لو فرغ عن الوظيفة بمال فللمفروغ له الرجوع بالمال لأنه اعتياض عن حق مجرد وهو لايجوز صرحوا به قاطبةً، قال: ومن أفتى بخلافه فقد أفتى بخلاف المذهب لبنائه على اعتبار العرف الخاص وهو خلاف المذهب والمسألة شهيرة وقد وقع فيها للمتأخرين رسائل واتباع الجادة أولى والله أعلم۔(الفتاوی الشامیہ، كتاب الوقف ،ج:4/ص:383(

 


فتویٰ نمبر : 3102/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں