بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

معذور شخص کی نماز کا حکم


سوال

ایک شخص خروج ریح  کا مریض ہے لیکن اس کی دو حالتیں ہیں پہلی حالت یہ ہے  کہ کبھی تو اس کو اتنی   فرصت بھی نہیں ملتی کہ پورے وقت میں عذر کے بغیر  وہ دو رکعت نماز بھی پڑھ سکے اور دوسری حالت  یہ ہے کہ اس کو کبھی کبھار بیس یا  تیس منٹ تک اس بیماری سے  افاقہ حاصل ہو جاتا ہے  اس سے زیادہ وقت نہیں ملتی اب سوال یہ ہے کہ اس شخص کومسلسل عذر لاحق ہونے کے بعد کچھ وقت کے لیے افاقہ حاصل ہو جانے سے  کیا وہ پہلے کی طرح    معذور شمار ہو گا یا نہیں ؟

جواب

              شرعی نقطہ نظر سے معذور بننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس عذر کی وجہ سے کسی فرض نماز کا کامل وقت اس طرح گزر جائے کہ اس میں وہ باوضورہ کر نماز نہ پڑھ سکے ، چنانچہ اگر کسی شخص پر کسی بھی فرض نماز کامکمل وقت حالت عذر میں گز ر جائے اور اس میں نماز پڑھنے کی فرصت نہ ملے تو شرعا ایسا شخص معذور سمجھا جائے گا اس کے بعد معذور  کے حکم پر باقی رہنے  کے لیے بعد کے اوقات میں اگر اس کو ایک باربھی یہ عذر پیش آتا رہےتو  وہ معذور کے حکم میں ہوگا ،البتہ  اگر ایک فرض نماز کا پورا وقت بغیر عذر کے گزر گیا تو اب یہ معذورنہیں رہے گا۔

              صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص  کو معذور بننے کے بعد اگر صرف   بیس یا تیس منٹ کے لیے بیماری سے افاقہ ہوتا ہو تو اس سےوہ شخص معذور ہونے کے حکم  سے نہیں نکلتا ، لہذا وقت داخل ہونے کے بعد وضو کر کے اسی حالت میں نماز ادا کرے اور وقت ختم ہونے کے بعد دوسری نماز کے لیے دوبارہ وضو کیا کرے۔

 

والمستحاضة ومن به سلس البول والرعاف الدائم والجرح الذي لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة فيصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل۔ ۔ ۔  فإن توضئوا حين تطلع الشمس أجزأهم عن فرض الوقت حتى يذهب وقت الظهر۔ ۔ ۔  والمراد بالوقت وقت المفروضة حتى لو توضأ المعذور لصلاة العيد له أن يصلي الظهر به عندهما وهو الصحيح۔(الهداية،كتاب الطهارات،باب الحيض والاستحاضة،ج1،ص65،66)

 


فتویٰ نمبر : 9256/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں