بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

دادا کا پوتوں کو زمین ہبہ کرنا


سوال

اگر کسی شخص نے اپنی زندگی  میں اپنے پوتوں  کو گھر کے پاس ایک حجرہ ہبہ کر دیا تھااور باقاعدہ طور پراشٹامپ پیپر پر لکھ کر دیا تھادادا كےوفات كے بعد ان پوتوں نے جائیداد کی تقسیم کر کے اپنا اپنا حصہ لے ليا  اور وہ حجرہ   چھوٹے بھائی کے  حصے میں  آگیا تو کیا اس حجرہ میں اس کے ساتھ چچا کا حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟

جواب

              واضح رہے کہ ہر انسان کو زندگی میں بحالت  ہوش و حواس اپنی مملوکہ جائیداد میں مالکانہ تصرفات کا حق حاصل ہے، اس لیے جب کوئی شخص اپنی مملو کہ چیز کسی کو ہبہ  کرے تو اس کا یہ  فعل شرعا معتبر سمجھا جا تا ہے اور قبضہ کے بعد ہبہ تام ہوکر موہوب لہ اس کا مالک بن جا تا ہے ۔

               صورت مسئولہ میں اگر واقعی دادا نے اپنے پوتوں  کو بحالت ہوش وحواس  حجرہ کا مالک بنایا تھا  اور اس کی زندگی میں پوتوں  نے اس پر قبضہ بھی کیا تھا تو قبضہ کے بعد یہ ان  کی ملکیت رہے گی لہذا  اس میں ان  کے ساتھ کوئی اور وارث شریک نہیں ہو گا ۔

 

ومـنـهـا أن يـكـون الموهوب مقبوضاً،حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض ....وأن یکون مملوکا۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الھبۃ،ج:4،ص:395)


فتویٰ نمبر : 5102/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں