بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ میں کتابیں دینا


سوال

اگر کوئی سرمایہ دار مدرس زکوۃ کے پیسوں سے دینی کتب خریدتا ہے اور پھر غریب طلبا کو یہ کتب زکوۃ کی نیت سے دیتا ہے تو کیا اس طریقے سے زکوۃ کی ادائیگی ہو جاتی ہے؟

جواب

              جس طرح زکوۃ میں کسی کو رقم تملیکا  دینا جائز ہے، اسی طرح  کسی مستحق کو زکوۃ میں کتابیں دینا بھی جائز ہے  لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ کتابیں مستحقین کو باقاعدہ  تملیکا دی  جائیں۔

              لہذا صورت  مسئولہ کے مطابق   زکوۃ کی رقم سے خریدی ہوئی کتابیں  غریب طلبا کو  زکوۃ کی نیت سے  ملکیتا ًدینا شرعا جائز ہے ۔

 

وأما الذي يرجع إلى المؤدى فمنها: أن يكون مالا متقوماً على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أولا من جنس المال الذي وجبت فيه الزكوة،أو من غير جنسه.(بدائع الصنائع، كتاب الزكوة،فصل فيمايرجع إلى المؤدى،ج2،ص461)


فتویٰ نمبر : 9246/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں