بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

ملازم کا اپنی کمپنی میں کاریگر کو کام دلوانے پر کمیشن لینا


سوال

میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں جو بسا اوقات  مجھ سے کسی کام کے لیے کاریگر ڈھونڈنے کا مطالبہ  کرتی ہے تو میں عام ریٹ  پر کاریگر سے  بات کر لیتا ہوں لیکن  کاریگر کو اس  کام کے  مہیا کرنے کے عوض  ہر فٹ میں کچھ رقم  بطورِ کمیشن  اپنے  لیے  شرط لگا لیتا ہوں  ،مثلا:کسی کام کا عام ریٹ فٹ کے حساب سے  15 ریال  ہو تو میں کاریگر   کے ساتھ ہر فٹ میں 3 ریال  اپنے لیے شرط لگا لیتا ہوں ،نیز  اگر کاریگر یہ کمیشن نہ دے تو میں اس کو یہ کام حوالہ  نہیں کرتا ،تو کیا اس  طرح کا معاملہ کرنا میرے لیے جا ئز ہے یا نہیں ؟

جواب

           واضح رہے کہ اگر کوئی شخص  کسی کمپنی میں تنخواہ کے عوض   ملازمت اختیار کرتا ہے  تواسی کمپنی کے لیے کوئی کام کرنے کے عوض کمیشن لینا رشوت کے زمرہ میں آتا  ہے ۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق اگر  سائل  کاریگر  کو کام دلوانے میں کمپنی سے رابطہ کرتا ہے اور کاریگر کو ایک فٹ 15 ریال کے حساب سے حوالہ کرے اور پھر اپنے اس عمل کے عوض  کاریگر   سے بطورِ کمیشن ہر فٹ میں 3  ریال کا مطالبہ کرے تو اس طرح عقد کرنا جائز نہیں ۔

 

(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل۔۔۔۔وليس للخاص أن يعمل لغيره(الدرالمختار علي صدر رد المحتار، مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة،ج:6،ص:70)

وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية  قوله (فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا لأنه لا وجه له۔(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب البيوع، فرع ظهر بعد نقد الصراف أن الدراهم زيوف،ج:4،ص:560)


فتویٰ نمبر : 3100/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں