بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

قاضی کا کسی معاملے میں گواہ بننا


سوال

  ایک شخص کے حق میں قاضی نے زمین کا فیصلہ سنایا،بیس سال گزرنے کے بعد کسی نے اس شخص  کی زمین پر  دوبارہ استحقاق کا دعوی کیا تو کیا اس مدعی علیہ کے حق  میں وہی قاضی گواہ بن سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

           قاضی  جب تک منصب قضا پر فائز ہواس کا  علم کسی بھی فریق کے لیے حجت نہیں بن سکتا ،تاہم اگر قاضی  منصب قضا سے  معزول ہو چکاہو تو  وہ مثل رعایا كے ہے لہٰذا اس کی  گواہی کا اعتبار ہوگا۔

           صورت مسئولہ میں اگر مدعی علیہ  کسی وجہ سے مدعی بن جائے اور قاضی بعد العزل اس کے حق گواہ بنتا ہو تو اس کی  گواہی کا اعتبار ہوگا بشرطیکہ شہادت کے دیگر شرائط مکمل ہوں۔

 

علم القاضي ليس بحجة إلافي كتاب القاضي للضرورة۔(رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الشهادات،باب الشهادة على الشهادة،ج:11،ص:308)

منها ما يرجع إلى الشاهد وهو:العقل،والبلوغ،والحریۃ،والبصر،والنطق۔۔۔وأن یکون عالما بالمشھود بہ وقت الأداء،ذاكرا له عند أبي حنيفة رحمه الله۔(الفتاوى الهندية،كتاب الشهادات،الباب الأول في تعريفها،و ركنها۔۔۔الخ،ج:3،ص:387)

"ومن قلد القضاء يسلم إليه ديوان القاضي الذي كان قبله" ۔۔۔ قال: "وينظر في حال المحبوسين" لأنه نصب ناظرا "فمن اعترف بحق ألزمه إياه" لأن الإقرار ملزم ومن أنكر: لم يقبل قول المعزول عليه إلا ببينة لأنه بالعزل التحق بالرعايا۔(الهداية،كتاب أدب القاضي،ج:5،ص:343)


فتویٰ نمبر : 3103/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں