بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
خاص لڑكی سے نكاح نہ ہونے کی صورت میں تعلیق طلاق
سوال
ایک لڑکے کو نکاح سے پہلے ایک لڑکی پسندتھی لیکن والدین نے بچپن میں اس کا رشتہ دوسری جگہ کیا تھا اور گھر والوں نے شادی کے وقت یہ یقین دلایا تھاکہ اس نکاح سے انکار نہ کریں اس کے بعد دوسری شادی اپنی مرضی سے کریں۔ اب شادی کے کچھ عرصہ بعد لڑکا کہہ رہا تھا کہ جو لڑکی مجھے پسند ہے اس سےاب میری شادی کر ادیں لیکن گھر والے ٹال مٹول کر رہے تھے تو لڑکے نے گھر والوں کے سامنے کہا کہ اگر میں نے اس لڑکی سے جو مجھے پسند ہے ، شادی نہیں کی تو مجھ پر اپنی بیوی طلاق ہے ۔ کیا اس لڑ کی سے شادی نہ کرنے پر طلاق واقع ہوگی ؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے جب کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو شرط کے واقع ہونے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے اور اگر شرط واقع نہ ہو تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
صورت مسئولہ میں جس شخص نے طلاق کو کسی متعین عورت سے نکاح نہ کرنے کے ساتھ معلق کیا ہے تو جب تک نکاح کرنے کا احتمال باقی ہوگا ، طلاق واقع نہ ہو گی ، چنانچہ فی الحال اس عورت سے نکاح نہ ہونے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی ،البتہ اس عورت کے فوت ہو جانے کے ساتھ یا خود اس آدمی کےفوت ہو جانےکے ساتھ طلاق کی شرط (متعین عورت سے نکاح نہ کرنا) پوری ہونے کی وجہ سے ایک طلاق واقع ہو جائے گی ، بشرطیکہ اس کی منکوحہ عورت اس وقت اس کے نکاح میں موجود ہو۔
قال ابـن عـابـديـن تـحـت قوله : ( ولو حلف ليفعلنه بر بمرة.... وإذالم يفعل لا يحكم بوقوع الحنث حتى يقع اليأس عن الفعل ، وذلك بموت الحالف قبل الفعل... أو بفوات محل الفعل. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الأيمان، باب اليمين في الضرب والقتل، مطلب حلف ليفعلنه بر بمرة، ج:5، ص:669)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں